تاثیر 15 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ریڈ اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی مداخلت کا معاملہ ایک ہفتہ پہلے ہی سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔کل اس کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ سماعت کے دوران ای ڈی اور مغربی بنگال حکومت کے درمیان تیز بحث ہوئی ۔ بحث صرف قانونی تنازع تک محدود نہیں تھی۔ وفاقی ڈھانچے، مرکزی ایجنسیوں کی آزادی اور ریاستی حکومتوں کی خودمختاری کے درمیان توازن کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد کورٹ نے مغربی بنگال حکومت اور ڈی جی پی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر جواب جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی ای ڈی کے افسروں کے خلاف درج ایف آئی آرپر روک لگا دی ہے۔ اگلی سماعت 3 فروری کو ہوگی۔ یہ کیس 8 جنوری کے اس واقعے سے جڑا ہے، جب ای ڈی نے کولکاتہ میں آئی۔پیک کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کے گھر پر کوئلہ اسمگلنگ کیس میں ریڈ کی تھی۔ اسی دوران ممتا بنرجی کی آمد اور کچھ الیکٹرانک ڈیوائسز لے جانے کے الزام نے اسے سیاسی رنگ دے دیا تھا۔
سماعت کے دوران ای ڈی کا موقف مرکزی ایجنسیوں کی سالمیت اور تحقیقات کی آزادی پر مبنی تھا۔ سولیسیٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ ریڈ کے دوران ممتا بنرجی نے نہ صرف موقع پر پہنچ کر مداخلت کی بلکہ اہم ڈیوائسز اور دستاویزات اپنے ساتھ لے گئیں، جس سے تحقیقات میں رکاوٹ آئی۔ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ یہ ریڈ کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کا حصہ تھی، جس میں حوالہ چینلز اور 20 کروڑ روپے کی نقد لین دین کے شواہد ملے ہیں۔
دوسری جانب، مغربی بنگال حکومت کا موقف ای ڈی کی مبینہ زیادتی اور سیاسی انتقام پر مرکوزرہا۔ سینئر وکیل کپل سبل اور ابھیشیک سنگھوی نے ای ڈی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی نے صرف پرتیک جین کا لیپ ٹاپ اور آئی فون لیا، جس میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے متعلق حساس ڈیٹا تھے۔ ان کے مطابق، یہ ریڈ الیکشن کے وقت کی گئی۔کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئلہ گھوٹالہ کی تحقیقات پہلے سے چل رہی تھی تو الیکشن کے قریب آنے پر ریڈ کیوں کی گئی ؟ سنگھوی نے الزام عائد کیا کہ ای ڈی کی عرضی اور پنچنامہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال ای ڈی کی کارروائی کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا دعویٰ ہے کہ ای ڈی نے حقوق سے تجاوز کیا تھا۔چنانچہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نے صرف امن برقرار رکھنے کے لئے موقع پر جانا پڑا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے، معالے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستاویزات کو محفوظ رکھنے کا حکم ای ڈی کو دینے اور ’’ایجنسی کے کام میں مداخلت نہیں کی جا سکتی‘‘ جیسا تبصرہ کرنے سے عدالت کا رخ کچھ حد تک کل ہی سامنے آیا گیا۔
سپریم کورٹ کی سماعت میں کئی اہم پہلو سامنے آئے۔ جسٹس پرشانت کمار مشرا اور وپل پنچولی کی بنچ کا تبصرہ تھا کہ اگر ای ڈی دستاویزات ضبط کرنا چاہتی تھی تو اسے روکا نہیں جا سکتا ۔ تاہم، عدالت نے دونوں فریق کو نوٹس جاری کر کےچند مزید ضروری نکات کو واضح کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ظاہر ہے،یہ کیس بھارت کے وفاقی ڈھانچے یعنی مرکزی حکومت، مرکزی حکومت کی ایجنسیوں اور ر یاستی حکومتوں کے درمیان توازن سے جڑا ہوا ہے ۔اس طرح کے تنازعات ماضی میں بھی سامنے آئے ہیں، جیسے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان ٹکراؤ کےوقت سامنے آئے تھے ۔
ماہرین کے مطابق اس کیس کے وسیع تر اثرات ملک کی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر پڑنے کا امکان ہے۔اگر ای ڈی کے الزامات درست ثابت ہوئے تو مرکزی ایجنسیوں کے کام میں ریاستی حکومتوں کی مداخلت پر یقیناََ روک لگے گی۔ دوسری طرف، اگر ٹی ایم سی کا موقف غالب آیا تو یہ مرکزی ایجنسیوں کے سیاسی استعمال پر ایک بڑا سوال ثابت ہوگا۔مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں، جہاں اپوزیشن اور مرکز کے درمیان سیاسی جنگ سا ماحول ہے، توقع ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ جو بھی فیصلہ ہوگا ملک کے وہ وفاقی ڈھانچے کے حق میں ہی ہوگا۔ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ جمہوریت میں کوئی بھی طاقت قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ توقع یہ بھی ہے کہ دونوں فریق عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ای ڈی کو اپنی تحقیقات شفاف رکھنی چاہئے، جبکہ ریاستی حکومتوں کو بھی مرکزی ایجنسیوں کی آزادی کا احترام کرنا چاہے۔ اگر یہ تنازع سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے تو ظاہر ہے یہ ملک کی جمہوری اقدار کو کمزور کرے گا۔ سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ دے گی،اس سے وفاقیت کے اصول مزید مضبوط ہوں گے۔

