تاثیر 7 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دہلی کے تاریخی ترکمان گیٹ علاقے میں سید فیض الٰہی مسجد کے قریب انسداد تجاوزات کی مہم نے ایک بار پھر ملک کے سیکولر تشخص اور اقلیتی برادریوں کے تحفظات کو زیر بحث لا کھڑا کیا ہے۔گزشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب یعنی 7 جنوری، 2026 کو رات گئے شروع ہونے والی یہ کارروائی، دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے انجام دی۔مبینہ طور پر کارروائی میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے حالات قدرے پر تشدد ہو گئے۔ حالاں کہ اب صورتحال تشوسناک نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق مقامی افراد کے ایک گروہ نے پولیس پر پتھراو اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں۔اس سے کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولے استعمال کیے اور اب تک پانچ سے زائد افراد کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف قانونی حکم کی تعمیل کا معاملہ ہے بلکہ حساس مذہبی مقامات پر کارروائیوں کے طریقہ کار اور ان کے سماجی اثرات پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ کارروائی قانونی طور پر درست تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے نومبر، 2025 میں تقریباً 39,000 مربع فٹ زمین سے غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کا واضح حکم دیا تھا۔ عدالت کے مطابق، مسجد کے لئے مختص صرف 0.195 ایکڑ زمین قانونی ہے، جبکہ اس کے آس پاس بنائے گئے بنکویٹ ہال، ڈسپنسریاں، دکانیں اور دیگر ڈھانچے غیر قانونی تھے۔ ایم سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا اور کارروائی سے قبل مسجد کمیٹی، امن کمیٹی اور مقامی رہنماؤں سے متعدد میٹنگیں کی گئیں۔ پولیس نے بھی احتیاطی طور پر بھاری نفری تعینات کی تھی۔یعنی انتظامیہ نے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی حتی الامکان سنجیدہ کوشش کی تھی۔
تاہم، یہ حقیقت ہے کہ اس کارروائی کے طریقہ ٔکار اور وقت کے انتخاب نے مسلم کمیونٹی میں گہرے تحفظات کو جنم دیاہے۔ ایک صدی پرانی سید فیض الٰہی مسجد اور اس سے متصل علاقہ مسلم برادری کے لئے مذہبی اور جذباتی اہمیت کا حامل ہے۔ مسجد کی مینجمنٹ کمیٹی کادعویٰ ہے کہ یہ زمین وقف کی ملکیت ہے اور اس پر صرف وقف ٹریبونل کا اختیار ہے۔ انہوں نے ایم سی ڈی کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاہے، جس پر عدالت نے 6 جنوری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا تھا۔عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 22 اپریل مقرر کی ہے۔ ایسے میں بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں ، رات کے اندھیرے میںدرجنوں جے سی بی مشینوں کے ساتھ اچانک شروع کی گئی کارروائی مقامی لوگوں میں خوف اور بے چینی کا باعث بنی۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی مقامات کے قریب ہونے والے بلڈوزر ایکشنز کے تناظر میں سید فیض الٰہی مسجد کے قریب کی گئی یہ کارروائی اقلیتوں کو’’نشانہ بنانے‘‘کے تاثر کو ہوا دینے کے لئے کافی تھی۔
تشدد کی شدید مذمت ضروری ہے۔ پولیس پر پتھراو اور حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد ا چانک بھڑکا یا منصوبہ بند تھا، اس کی تفتیش جاری ہے۔ کچھ رپورٹس میں سیاسی مداخلت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ لیکن ساتھ ہی، یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا کارروائی کو دن کے وقت اور زیادہ شفاف طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا تھا؟ کیا عدالت میں زیر التوا معاملے کے باوجود اتنی جلد بازی ضروری تھی؟
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں باور کراتا ہے کہ حساس مذہبی مقامات پر انسداد تجاوزات جیسے اقدامات انتہائی احتیاط، شفافیت اور تمام فریقین کے ساتھ مکالمے کے ساتھ کیے جائیں۔ قانون کی حکمرانی سب کے لئے برابر ہونی چاہئے، لیکن اسے ایسے انجام دیا جائے کہ کوئی بھی برادری یا مذہبی فرقہ خود کو نشانہ بنتا ہوا محسوس نہ کرے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ اس کے نفاذ کے دوران یہ واضح ہو کہ قانون انصاف کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے۔مسلم کمیونٹی کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے تحفظات قانونی اور پرامن طریقوں سے پیش کرے۔ حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کے خدشات کو دور کرنے کے لئے اعتماد کا ماحول قائم کرے۔ بھارت کی سیکولر اور جمہوری روایت کا تقاضہ ہے کہ قانون کے نفاذ میںسب کے حقوق کا احترام کیا جائے، بصورت دیگر ایسے واقعات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔
*******

