ہراہی پوکھر میں مٹی بھرائی پر تشویش، خوبصورتی کاری مہم پر سوالات

تاثیر 15 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ (فضا امام):کئی برسوں کی تاخیر، بدلتی ہوئی ڈیڈ لائنز اور بار بار کے سرکاری اعلانات کے بعد جب دربھنگہ کے تاریخی تالابوں کے اطراف سرگرمیاں دکھائی دیں تو شہریوں میں محتاط خوش فہمی پیدا ہوئی۔ لوگوں کو امید بندھی کہ ہراہی، ڈگھی اور گنگا ساگر پوکھر کو آپس میں جوڑنے اور ہراہی تالاب کی خوبصورتی کاری کا طویل عرصے سے التوا کا شکار منصوبہ بالآخر کاغذی وعدوں سے آگے بڑھے گا۔ یہ تینوں آبی ذخائرجو شہر کے قلب میں تقریباً سیدھی لائن میں واقع ہیں۔تقریباً 253 بیگھہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور دربھنگہ کی ماحولیاتی و ثقافتی زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔تاہم یہ امید اس وقت تیزی سے ماند پڑنے لگی جب ہراہی تالاب کے جنوب مغربی حصے میں بڑے پیمانے پر مٹی بھرائی شروع ہوئی۔ سرکاری حلقوں کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ کام تالاب کے اندر ہی پارکنگ کی تعمیر کے لیے کیا جا رہا ہے، جس نے شہریوں، ماحولیاتی کارکنوں اور سول سوسائٹی میں سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔ کام کی نوعیت اور مقام نے اس سرگرمی کی نیت اور قانونی حیثیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں، بالخصوص اس لیے کہ اب تک کسی قسم کی عوامی معلومات جیسے قانونی منظوری، ماحولیاتی کلیئرنس، منصوبے کا ڈیزائن یا تکمیلی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔ماحولیاتی کارکنوں کے مطابق جائے وقوعہ پر ایسا کوئی پروجیکٹ سائن بورڈ بھی نصب نہیں جو کام کے دائرۂ کار، فنڈنگ ایجنسی، نفاذی اتھارٹی یا ریگولیٹری اجازتوں کی تفصیل بتاتا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ شفافیت کی اس کمی سے طریقۂ کار کی خلاف ورزیوں اور ویٹ لینڈ قوانین کی ممکنہ پامالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔تالاب بچاؤ ابھیان (TBA) کے اراکین نے، سپریم کورٹ کے وکیل کملیش کمار مشرا کے ساتھ، حال ہی میں موقع کا معائنہ کیا اور معاملے پر فوری مداخلت کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشرا کے مطابق دربھنگہ کے تالابوں کے تحفظ سے متعلق سابق عدالتی ہدایات پر مبنی توہینِ عدالت کی ایک عرضی پہلے ہی پٹنہ ہائی کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے، جبکہ ہراہی تالاب میں جاری مٹی بھرائی کے خلاف سپریم کورٹ میں الگ عرضی دائر کی جائے گی۔تنظیم خوبصورتی کاری یا عوامی استعمال کی مخالفت نہیں کرتی، مگر ایسے کسی بھی اقدام پر اعتراض ہے جو ویٹ لینڈ قوانین کی خلاف ورزی کرے، آبی حیات کو نقصان پہنچائے یا قائم شدہ ماحولیاتی حفاظتی اصولوں کو کمزور کرے۔دوسری جانب BUIDCo کے ایگزیکٹو انجینئر ابھے کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ مٹی بھرائی محدود نوعیت کی ہے اور منظور شدہ خوبصورتی کاری منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت پارکنگ اور تالاب کے گرد پیدل راستہ تیار کیا جانا ہے۔ضلع مجسٹریٹ کوشل کمار نے بھی کہا کہ یہ سرگرمی تالابوں کو آپس میں جوڑنے اور خوبصورتی کاری کے منصوبے کا حصہ ہے اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ تالابوں پر کم سے کم اثر پڑے۔