تاثیر 23 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ) انجم ایڈوکیٹ ( ہندوستانی جدوجہد آزادی کے پہلے مرحلے میں 1857 کی جدوجہد میں اسی سال کی عمر میں انگریزوں کو للکارنے والے مادر ہند کے بے مثال جنگجو اور بہادر بیٹے بابو ویر کنور سنگھ کے وجئے اتسو کے موقع پر آج گوپال نارائن سنگھ یونیورسٹی کے دیومنگل آڈیٹوریم میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جسمیں گوپال نارائن سنگھ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے شرکت کی، اس موقع پر پرنسپل ڈاکٹر پونیت کمار سنگھ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ونود شنکر سنگھ، شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر منی کانت کمار، شعبہ سرجری کے سربراہ ڈاکٹر منیش کمار، یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر کمار آلوک پرتاپ، پبلک ریلیشن آفیسر بھوپیندر سنگھ، بائیو کیمسٹری شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر وائی کمار، پی ایچ ڈی سی کے ڈاکٹر مرتیونجے اپادھیائے، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وکاس کمار وغیرہ نے بابو ویر کنور سنگھ کی تصویر پر گلپوشی کی اور انھیں عقیدت کے ساتھ یاد کیا ۔ اس موقع پر مقررین نے بابو ویر کنور سنگھ کی شخصیت اور کارناموں پر روشنی ڈالی جنہوں نے تحریک آزادی ہند میں قائدانہ کردار ادا کیا اور برطانوی راج کو شکست دی ۔ قابل ذکر ہے کہ گوپال نارائن سنگھ یونیورسٹی کے قیام سے قبل نارائن میڈیکل کالج اور اسپتال ویر کنور سنگھ یونیورسٹی سے منسلک تھا، جس پر پروگرام میں مقررین نے گفتگو بھی کی ۔

