بہار کی سیاست : نتیش کمار کا دور اور آگے کا راستہ

تاثیر 7 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی سیاست میں پچھلے کئی دنوں سے ہلچل مچی ہوئی ہے۔ نتیش کمار، جو ریاست کے طویل ترین خدمت گزار وزیراعلیٰ رہے ہیں، اب قومی سطح پر منتقلی کی پوزیشن میں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ کل 9  اپریل کو دہلی روانہ ہوں گے، 10 اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ اس کے فوراً بعد وہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ این ڈی اے نے اپنے تمام ایم ایل ایز کو 11 اپریل سے پٹنہ میں موجود رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ آج  8 اپریل کو نتیش کی صدارت میں کابینہ کی آخری میٹنگ متوقع ہے۔مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک شخصیت کی منتقلی نہیں بلکہ بہار کی سیاست کے ایک طویل دور کے اختتام اور نئے مرحلے کا آغاز بھی ہے۔
نتیش کمار نے نومبر، 2025 میں دسویں بار وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ این ڈی اے کو اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کی حکومت نے قانون و نظم، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کی۔ نتیش نے ریاست بھر میں دورے کرکے خود کو ایک ترقی پسند لیڈر کے طور پر پیش کیا۔ مارچ، 2026 میں ان کا راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ سامنے آیا، جسے ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی قرار دیا گیا۔ 16 مارچ کو وہ بلامقابلہ راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہو گئے۔ اب وہ راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد بہار کی سیاست کو الوداع کہہ کر قومی سطح پر کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔
اس سیاسی منتقلی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ نتیش کمار نے واضح کیا ہے کہ ان کا دل اور بنیاد بہار میں ہی رہے گی۔ ان کے قریبی ساتھیوں، جن میں جے ڈی یو کے ایم پی دلیشور کامت ، رام پریت منڈل اور دیگر شامل ہیں، نے بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ بہار کی نئی حکومت ’’نتیش ماڈل ‘‘پر چلے گی۔ یعنی قانون و نظم، ترقیاتی کام، خواتین کی حفاظت، تعلیم اور غریبوں کی فلاح و بہبود پر مبنی ان کا وژن جاری رہے گا۔ ان کی’’ سمردھی یاترا‘‘ کے دوران، جن منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا، انھیں مکمل کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 2030 تک بہار کے ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کا پروگرام بھی جاری رکھنے کے تذکرے ہو رہے ہیں۔
نتیش کمار کی قیادت میں بہار نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا ۔ جہاں ایک طرف قانون و نظم کی بہتری اور انتظامی اصلاحات نے ریاست کی تصویر بدلی، وہیں دوسری طرف معاشی ترقی، روزگار اور تعلیم کے شعبوں میں اب بھی بہت کام باقی ہے۔سیاسی طور پر بہار سے  الگ ہونے کے بعد، اہم سوال یہ ہے کہ نیا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ این ڈی اے کے اندر سے جے ڈی یو اور بی جے پی دونوں کے ممکنہ امیدواروں کے نام موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ کچھ ناموں میں سمراٹ چودھری، نتیانند رائے اور دیگر کا ذکر ہو رہا ہے۔ البتہ حتمی فیصلہ این ڈی اے کی مرکزی قیادت کرے گی۔ 13 یا 14 اپریل کے بعد این ڈی اے کی میٹنگ میں نیا لیڈر منتخب کیا جائے گا اور اس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل عمل میں آئے گی۔
یہ منتقلی بہار کی سیاست میں استحکام کی علامت بھی ہے اور چیلنج بھی۔ نتیش کمار کی طویل تجربہ کار قیادت نے ریاست کو بار بار سیاسی بحرانوں سے نکالا ہے۔ ان کی جگہ لینے والے لیڈر کو نہ صرف این ڈی اے کے اندر ہم آہنگی برقرار رکھنی ہوگی بلکہ ریاست کی ترقی کے ایجنڈے کو تیز بھی کرنا ہوگا۔ اپوزیشن، خاص طور پر آر جے ڈی اور کانگریس کی جانب سے، اس موقع کو اپنے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، اگر نئی قیادت نتیش کے وژن کو آگے بڑھائے گی تو بہار کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
نتیش کمار کو اکثر ’’چانکیہ ‘‘کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی سیاسی مہارت، اتحاد بنانے کی صلاحیت اور ترقی پر توجہ نے بہار کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کے جانے سے جے ڈی یو کے اندر بھی نئی نسل کی قیادت ابھرنے کا امکان ہے، جیسا کہ ان کے بیٹے نیشانت کمار کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں۔ البتہ فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔
بہار کے عوام اس تبدیلی کو امید اور توقع بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ نئی حکومت کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تیز رفتار کام کرنا ہوگا۔ نتیش کمار نے جو بنیاد رکھی ہے، اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر این ڈی اے اتحاد مضبوط رہا اور ’’نتیش ماڈل ‘‘جاری رہا تو بہار آگے بڑھ سکتا ہے۔یہ سیاسی منتقلی بہار کے لئے ایک امتحان بھی ہے۔ اگر ہم آہنگی، ترقی اور عوامی مسائل پر توجہ برقرار رہی تو ریاست ایک نئے اورمثبت دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ نتیش کمار کی خدمات کو تاریخ  کبھی بھلا نہیں پائیگی، جبکہ نئی قیادت کو ان کے وژن کو عملی شکل دینے کا موقع ملے گا۔بلا شبہ بہار کی سیاست کا مستقبل اب اُس منتقلی کے نتیجے پر منحصر ہے۔
**********