تاثیر 19 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 19 اپریل: بہار کے وزیر اعلی سمراٹ چودھری نے خواتین ریزرویشن بل کو لے کر اپوزیشن جماعتوں پر سخت حملہ کیا۔ اتوار کے روزبی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی توہین کی گئی ہے اور یہ خواتین کے ساتھ دھوکہ ہے۔
کانگریس، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پارٹیاں اس مسئلہ پر جشن مناتی نظر ائیں، جو کہ بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن ایم پی بن سکتی ہے، لیکن دوسری خواتین کو موقع دینے سے متعلق کانگریس کے ارادے واضح نہیں ہیں۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار اسمبلی میں فی الحال صرف 29 خواتین ایم ایل اے ہیں، جب کہ خواتین کے ریزرویشن کو مکمل طور پر لاگو کرنے پر یہ تعداد بڑھ کر 122 ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے خواتین کے حقوق اور ان کی سیاسی شرکت سے متعلق ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔
پنچایت سطح پر نافذ 50 فیصد ریزرویشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود تقریباً 59 فیصد خواتین انتخابات جیت رہی ہیں، جو خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک بھر میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے، جب کہ کچھ جماعتیں اقربا پروری تک محدود ہیں۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں کبھی بھی خواتین کو ریزرویشن فراہم نہیں کیا اور اب وہ اس سمت میں اقدامات کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے کانگریس پر دلتوں اور قبائلیوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔

