ایرانی قیادت نے ٹرمپ کے اعلیٰ قیادت میں اختلافات کے دعوے کی تردید کی

تاثیر 24 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران،24اپریل:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے نظامِ حکومت میں تقسیم کے بار بار دعوؤں کے بعد متعدد ایرانی حکام نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایڑہ ای نے امریکی صدر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گذشتہ رات ایکس (ٹویٹر) پر لکھا کہ ٹرمپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ “متشدد” اور “اعتدال پسند” کی اصطلاحیں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، جو صرف مغربی سیاسی بیانیے میں رائج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں تمام طبقات اور نظریات بالآخر متحد ہیں اور رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔
یہ رد عمل اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے حکومت میں کسی بھی قسم کی دراڑ کی تردید کے بعد سامنے آیا ہے۔ قالیباف نے “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں لکھا “ایران میں کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند نہیں، ہم سب ایرانی ہیں … عوام اور ریاست کے درمیان آہنی اتحاد اور سپریم لیڈر کی مکمل اطاعت کے ساتھ ہم جارح کو اس کے کیے پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔” دل چسپ بات یہ ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے بھی حرف بہ حرف یہی الفاظ اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے۔اسی طرح وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی باور کرایا ہے کہ “میدانِ جنگ اور سفارت کاری ایک ہی جنگ کے دو مکمل طور پر مربوط محاذ ہیں”۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ایرانی پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں۔