تاثیر 15 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور۔ (نزہت جہاں)کشن گنج کے نگر تھانہ انچارج ابھیشیک کمار رنجن کی مبینہ بے پناہ جائیداد کے معاملے میں اقتصادی جرائم یونٹ (EOU) نے تفتیش تیز کر دی ہے۔ جیسے جیسے جانچ آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے ان کے کریئر کی پرتیں کھلتی جا رہی ہیں اور مظفرپور میں ابتدائی تقرری سے جڑے کئی اہم سراغ سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، سال 2009 میں بہار پولیس میں شامل ہونے کے بعد ابھیشیک رنجن نے مظفرپور کے اہیاپور تھانہ سے بطور ٹرینی داروغہ اپنے کریئر کی شروعات کی۔ اس کے بعد وہ سیوائی پٹی، برہم پورہ، بوچہاں اور موتی پور تھانوں میں تھانہ انچارج کے طور پر تعینات رہے۔ جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ مظفرپور میں تعیناتی کے دوران ان کی قربت زمین اور شراب کے غیر قانونی کاروبار سے جڑے افراد سے بڑھی، جس کے ذریعے مبینہ طور پر جائیداد بنانے کی بنیاد رکھی گئی۔
ای او یو کی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اہیاپور تھانہ حلقہ کے چندوارہ میں زمین خریدی گئی، جبکہ کانٹی کے فتح پور علاقے میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے اشارے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ بے نامی جائیداد میں سرمایہ کاری کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تبادلے کے بعد بھی ان کے روابط مشتبہ کاروباری افراد سے برقرار رہے۔ اب اقتصادی جرائم یونٹ ان روابط کی گہرائی سے جانچ کر رہا ہے۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جانچ ایجنسی موبائل کال ڈیٹیل، واٹس ایپ چیٹ اور بینک اکاؤنٹس کی باریکی سے چھان بین کر رہی ہے۔ افسران کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات ہو سکتے ہیں۔

