ایل پی جی بحران اور بنگال کی سیاست

تاثیر 21 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بنگال اسمبلی انتخابات، 2026 کے پس منظر میں ایل پی جی کی قلت ایک غیر متوقع مگر نہایت حساس انتخابی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر آبنائے ہر مز کی  بندش اور ایران ۔اسرائیل کشیدگی نے توانائی کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں حالیہ دنوں میں گیس سلنڈر کی قلت اور بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر متوسط اور مزدور طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
گجرات کے سورت کے اودھنا ریلوے اسٹیشن سے وائرل ہونے والے ویڈیوز نے اس بحران کی سنگینی کو عوام کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ سینکڑوں مزدور، جن میں یوپی، بہار اور مغربی بنگال کے افراد شامل تھے، اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور نظر آرہے ہیں۔یہ صرف معاشی بے بسی کی تصویر نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا سیاسی بیانیہ بھی ہے، جو براہ راست بنگال کے انتخابی ماحول کو متاثر کر سکتا ہے۔ جب ایک نوجوان یہ کہتا ہے کہ ’’اب نہیں آؤں گا اے دوست ، کبھی نہیں آؤں گا….‘‘‘ تو یہ جملہ صرف ذاتی مایوسی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی اضطراب کی علامت بن جاتا ہے۔
اعداد و شمار اگرچہ ابھی غیر حتمی ہیں، لیکن مختلف زمینی رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ لاکھوں بنگالی مزدور دیگر ریاستوں سے واپس اپنے گھروں کا رخ کر چکے ہیں۔ کرناٹک، مہاراشٹر، گجرات اور جنوبی ہند کے دیگر علاقوں سے ان کی واپسی نے انتخابی حلقوں میں ایک نئی حرکیات پیدا کر دی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ صرف معاشی طور پر کمزور ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی انتہائی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ مزدور جو برسوں سے باہر محنت کر رہے تھے، اب اپنے تجربات اور تلخ حقائق کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، جو انتخابی گفتگو کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔
حکمران جماعت ترنمول کانگریس نے اس مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے اور اسے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایل پی جی کی قلت کو عوامی مسائل کے ساتھ جوڑ کر اسے ایک انتخابی ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ ریاست میں اجولا یوجنا کے تحت کروڑوں کنکشن دیے جا چکے ہیں، جن کے صارفین براہ راست اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ترنمول قیادت یہ بیانیہ بھی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ غریب اور حاشیے پر موجود طبقات کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اس بحران کو عالمی تناظر میں پیش کرتے ہوئے اسے’’گلوبل کرائسس‘‘ قرار دے رہی ہے اور ریاستی حکومت کو روزگار کے مواقع فراہم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بعض مقامات پر واپس لوٹنے والے مزدوروں کی طرف سے ریاستی حکومت کے خلاف ناراضگی بھی سامنے آئی ہے، جو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ووٹر لسٹ میں نام کٹنےکے اثرات اور انتظامی مسائل بھی جا بجا موضوع بحث بنے ہوئے ہیں، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔بعض سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ مزدوروں کی یہ بے تحاشہ واپسی صرف ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن عنصر بن سکتی ہے۔ اگر یہ مزدور بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں میں موجود رہتے ہیں، تو وہ اپنے تجربات اور مشکلات کو ووٹ کی شکل میں ظاہر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر مالدا، مرشدآباد، شمالی بنگال اور 24 پرگنہ جیسے اضلاع میں، جہاں مہاجر مزدوروں کی بڑی تعداد ہے، وہاں انتخابی نتائج میں نمایاں تبدیلی ممکن ہے۔ مزید یہ کہ ان علاقوں میں سماجی و معاشی ناہمواری پہلے سے موجود ہے۔ اس کی وجہ سے یہ بحران مزید اثر انداز ہو سکتا ہے۔یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ایل پی جی بحران محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک سیاسی علامت بن چکا ہے،ایسی علامت جو عالمی سیاست، قومی پالیسی اور مقامی عوامی زندگی کے درمیان گہرے ربط کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بحران نے یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ کیا بھارت کو توانائی کے متبادل ذرائع پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے عالمی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔
ویسے کسی ایک عنصر کو انتخابی نتائج کا واحد سبب قرار دینا مناسب نہیں، تاہم یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گیس سلنڈر کی قلت نے بنگال کی سیاست میں ایک نئی آگ بھڑکا دی ہے۔ یہ بحران اس بات کی بھی علامت ہے کہ عوامی مسائل، خواہ وہ عالمی وجوہات کے سبب ہی کیوں نہ پیدا ہوں، بالآخر مقامی سیاست کا حصہ بن جاتے ہیں۔آنے والے دنوں میں جب ووٹنگ مکمل ہوگی، تب یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ بحران محض وقتی اضطراب تھا یا واقعی اس نے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ فی الحال، یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایل پی جی کا مسئلہ ایک گھریلو ضرورت سے بڑھ کر انتخابی بحث کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے، جس کے اثرات 4 مئی کو دیکھے جا سکتے ہیں۔
**********