تاثیر 24 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد ، 24 اپریل :ریاست تلنگانہ میں آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ شہر حیدرآباد کے بشمول اضلاع میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ خدمات مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے جس کے بعد طلبہ ، ملازمین ، مزدور، چھوٹے تاجر اور دیگر طبقات بری طرح متاثر ہوگئے۔ گریٹر حیدرآباد کے تقریباً 25 آر ٹی سی ڈپوز سے تعلق رکھنے والی 3000 بسوں میں سے 90 فیصد بسیں ڈپوز تک ہی محدود ہوکر رہ گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ 450 میں سے تقریباً 400 الیکٹرک بسیں اور 260 کرایہ کی بسوں میں سے 180 بسیں سڑکوں پر اتاری گئی ہیں جبکہ مزید 120 بسیں آؤٹ سورسیس ڈرائیورس کے ذریعہ چلانے کی کوشش کی گئی۔ ہڑتال سے 10 تا 12 کروڑ روپئے کے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ ہڑتال کے باعث مسافروں کو پرائیویٹ گاڑیوں کا سہارا لینے کیلئے مجبورہونا پڑ رہا ہے، جہاں ان سے من مانی کرایہ وصول کرنے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ مختلف روٹس پر کرایوں میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے۔

