تاثیر 3 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ریاض،03اپریل:۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے اس مشہور بیان کے تناظر میں کہ “ایران نے ان مجرمانہ حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی تھی، یہ رویہ اتفاقیہ نہیں بلکہ بلیک میلنگ پر مبنی تاریخی ریکارڈ کا تسلسل ہے”، ریاض نے بیجنگ معاہدے کی خلاف ورزی پر تہران کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی حکام کے مطابق ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جو اس جاری تنازع کا حصہ ہی نہیں تھے، جس سے اس پر علاقائی و عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی مہم کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود، ایرانی نظام سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بلیک میلنگ کے سامنے ریاض نے ضبطِ نفس، سفارتی حل اور استحکام کو ترجیح دی ہے اور ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے جنگ میں گھسیٹے جانے کے بجائے خود کو اس تنازع سے دور رکھا ہے، حالانکہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔سیاسی محقق یوسف الدینی کے مطابق، ایران نے یہ صورتحال پیدا کی کہ یا تو اس کی دھمکی مانی جائے یا جنگ میں کودا جائے۔ سعودی عرب نے اس کے برعکس تیسرا راستہ اپنایا “بغیر اشتعال کے عدم قبولیت”۔ مملکت نے اپنا داخلی استحکام برقرار رکھا، معاشی منصوبے جاری رکھے اور ہوا بازی و توانائی کا مرکز بنی رہی، جس سے ایران کا نفسیاتی اور معاشی اثر و رسوخ کا حربہ ناکام ہو گیا۔لدینی مزید کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے محض دفاع پر اکتفا نہیں کیا بلکہ “روک تھام کی طاقت” کے تصور کو بدل دیا۔ اب یہ براہ راست جوابی کارروائی کے بجائے ایران کے لیے اس رویے کی سیاسی و معاشی قیمت بڑھانے پر مبنی ہے۔ سعودی عرب اسے محض ایک عارضی بحران نہیں بلکہ ایرانی جمہوریہ کے اس تزویراتی رویے کا حصہ سمجھتا ہے جس میں وہ مکمل جنگ کے بغیر اپنے حریفوں کے لیے استحکام کی قیمت بڑھاتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں سعودی عرب نے “لچک دار دفاع” اور “تزویراتی صبر” کا راستہ چنا ہے۔ ریاض نے فوری عسکری رد عمل کے بجائے “فعال روک تھام” کی پالیسی اپنائی، جس سے دشمن کو وہ کھلی جنگ نہیں مل سکی جس کے ذریعے وہ لڑائی کے قواعد اپنے حق میں بدلنا چاہتا تھا۔ گذشتہ دو دنوں میں سعودی دفاعی نظام نے ریاض اور مشرقی علاقوں کی طرف داغے گئے 5 سے زائد بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے، جبکہ برطانیہ اور یونان کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی جاری ہے۔

