تاثیر 26 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی،26اپریل: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور شعبہ فارسی (شبینہ)، ذاکر حسین دہلی کالج کے باہمی اشتراک سے چوتھا امیر حسن عابدی میموریل لیکچر/پینل ڈسکشن ذاکر حسین دہلی کالج کے سمینار ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں فارسی زبان و ادب کے طلبہ، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے اساتذہ و طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر علیم اشرف خان (صدر شعب? فارسی، دہلی یونیورسٹی) نے امیر حسن عابدی کی حیات و خدمات پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ امیر حسن عابدی جیسی نابغہ روزگار شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ جس انداز سے کام کرتے تھے اور جس محنت و لگن سے تحقیقی خدمات انجام دیتے تھے، وہ واقعی قابلِ تقلید ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے تحقیق کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اختیار کیا اور اپنی زندگی علم کی تلاش اور اس کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی علمی دیانت، تحقیقی بصیرت اور موضوع سے گہری وابستگی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔فارسی زبان و ادب کے ممتاز اسکالر اور سابق صدر شعب? فارسی، دہلی یونیورسٹی پروفیسر چندر شیکھر (آن لائن) نے کہا کہ امیر حسن عابدی نہایت بااخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کی رہنمائی کرتے اور انھیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے فارسی مخطوطات کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کو ازسرِنو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عابدی صاحب کی علمی میراث آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جس سے استفادہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔پروفیسر وجیہ الدین علوی (آن لائن) نے کہا کہ عابدی صاحب کی خدمات بے حد گراں قدر ہیں۔ وہ بجا طور پر ایک چلتی پھرتی لائبریری تھے۔ وہ ہمیشہ مخطوطات کی تلاش میں رہتے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس جانب راغب کرتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے تحقیق کے میدان میں جستجو، صبر اور استقامت کی جو مثال قائم کی، وہ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کی شخصیت علم دوستی اور تحقیقی انہماک کی روشن علامت تھی۔

