مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026: اقتدار کی جنگ، اندازے اور زمینی حقیقت

تاثیر 29 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تحریر: محمد نعیم
مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات نے ریاست کی سیاست میں غیر معمولی گہماگہمی پیدا کر دی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہیں اور عوامی جوش و خروش اس بات کا غماز ہے کہ اس بار مقابلہ نہایت سخت اور سنسنی خیز ہونے والا ہے۔ انتخابی منظرنامہ پر گہری نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ اصل معرکہ حکمراں جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس (TMC) اور مرکزی اقتدار کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے درمیان ہے، جب کہ دیگر پارٹیاں بھی اپنی حد تک اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں اپنی غیر معمولی پیش رفت کے بعد اس بار حکومت سازی کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی مہم کو تیز کر دیا ہے۔ بی جے پی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ 200 کے ہندسہ کو عبور کرنے کی پوزیشن میں ہے، تاہم سیاسی مبصرین اس دعوے کو زمینی حقیقت سے کچھ دور قرار دیتے ہیں۔
اوپینین پولز اور ابتدائی اندازوں پر نظر ڈالیں تو زیادہ تر سرویز میں ترنمول کانگریس کو برتری حاصل دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق ٹی ایم سی کو 150 سے 180 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جب کہ بی جے پی کو 100 سے 130 سیٹوں کے درمیان محدود رکھا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے ہنگ اسمبلی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتخابی نتائج میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق مغربی بنگال میں ایگزٹ پولز کی تاریخ زیادہ قابل اعتماد نہیں رہی ہے۔ ماضی میں کئی مواقع پر نتائج اندازوں کے برعکس آئے ہیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی حتمی پیش گوئی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مزید برآں، ووٹنگ فیصد میں غیر معمولی اضافہ—کئی علاقوں میں 90 فیصد کے قریب—اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے اس بار اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، جو نتائج کو غیر متوقع رخ دے سکتا ہے۔
زمینی سطح پر دیکھا جائے تو ترنمول کانگریس کو دیہی علاقوں، خواتین ووٹرز اور اقلیتی طبقے میں خاصی حمایت حاصل ہے، جو اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی شہری علاقوں، نوجوانوں اور کچھ نئے ووٹرز کے درمیان اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقوں میں براہ راست اور سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دوسری طرف چھوٹی جماعتیں اور علاقائی عناصر بھی اس انتخاب میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر اقلیتی ووٹوں کی تقسیم اگر ہوئی تو اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے، جب کہ متحدہ ووٹنگ کی صورت میں ترنمول کانگریس کو برتری حاصل رہ سکتی ہے۔
ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مجموعی تجزیہ کیا جائے تو فی الحال ترنمول کانگریس کو سبقت حاصل دکھائی دیتی ہے، تاہم بی جے پی ایک مضبوط حریف کے طور پر ابھری ہے اور انتخابی نتائج کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اس انتخاب کو یکطرفہ قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی بنگال کا یہ انتخاب محض اقتدار کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی سیاسی سمت کا تعین بھی کرے گا۔ عوام کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا، اور یہی فیصلہ طے کرے گا کہ آیا ممتا بنرجی اپنی حکمرانی برقرار رکھ پاتی ہیں یا بی جے پی پہلی بار ریاست میں اقتدار کا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوتی ہے۔