تاثیر 22 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولا مسجد کے حوالے سے، کل22 مئی کا دن کبھی نہیں بھولنے والا دن تھا اور وہ اس لئے کہ صدیوں پرانی اس مقدس عبادت گاہ میں کل پہلی بار جمعہ کی نماز ادا نہیں کی گئی۔ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ (انڈور بنچ) کے ایک فیصلے نے نہ صرف بھوج شالہ-کمال مولا مسجد احاطے کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا بلکہ مسلمانوں کی جمعہ کی نماز پر روک بھی لگا دی تھی۔
بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازع کا ایک طویل تاریخی اور عدالتی پس منظرہے۔ مسلمان اسے حضرت مولانا کمال الدین چشتی ؒ سے منسوب ایک قدیم مسجد سمجھتے ہیں، جہاں نسلوں سے مسلسل نماز ادا ہوتی رہی ہے۔ 1935 میں دھار ریاست کی عدالت نے بھی اسے مسجد تسلیم کیا تھا۔ جبکہ ہندو فریق اسے 11ویں صدی کے راجہ بھوج کے دور کا دیوی سرسوتی کا مندر اور سنسکرت تعلیم کا مرکز قرار دیتا ہے۔ 2003 کے ایک حکمنامے کے تحت بروز منگل ہندو سماج کو پوجا پاٹھ اور جمعہ کو مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کا اتفاقی بندوبست کئی دہائیوں سے چل رہا تھا۔ یہ بندو بست دونوں مذہبی کمیونٹیزکے درمیان ایک نازک اور حساس توازن پر قائم تھا۔
ہائی کورٹ نے آثار قدیمہ کے سروے (اے ایس آئی) کی رپورٹ کی بنیاد پر 2003 کے اس بندوبست کو منسوخ کر دیا اور مسلمانوں کو نئی جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کی تجویز دی۔ فیصلے کے فوراً بعد مسلم کمیونٹی نے انتہائی تحمل اور پختگی کا مظاہرہ کیا۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے حوالے سے، کمال مولا ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عبدالصمد خان کا کہنا ہے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور سپریم کورٹ میں ایس ایل پی دائر کر چکے ہیں۔ شہر کے قاضی وقار صادق نے بھی مسلمانوں سے امن برقرار رکھنے اور انتظامی ہدایات کی پابندی کی اپیل کی ہے۔
اس وقت تک دھار اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری پولیس نفری تعینات ہے۔ صورتحال حساس ضرور ہے مگر انتظامیہ کے مطابق امن و امان برقرار ہے۔ مسلمانوں نے کل گھروں یا قریبی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔ مسلم فریق کا موقف ہے کہ اے ایس آئی کی رپورٹ پر مزید شفاف بحث اور سماعت کی ضرورت ہے۔ مسجد کی صدیوں پرانی حیثیت کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بلا شبہ یہ تنازع صرف ایک مقام کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت جیسے کثیر المذاہب ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، تاریخی مساجد کی حفاظت اور آئینی ضمانتوں (آرٹیکل 25 اور 26) کا معاملہ ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں، جن سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ البتہ، عدالتی عمل جاری ہے اور سپریم کورٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام حقائق، تاریخی شواہد اور آئینی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی۔
حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاست سے الگ کرکے دیکھے اور دونوں کمیونٹیز کے درمیان اعتماد بحال کرنے کےلئے مثبت کردار ادا کرے۔ اگر متبادل جگہ کی پیشکش مخلصانہ ہو تو بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی تاریخی عبادت گاہ کی صدیوں پرانی حیثیت کو صرف ایک رپورٹ کی بنیاد پر ختم کرنا عدل کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔
اس نازک مرحلے میں دھار کے مسلمانوں کا صبر، قانون کی پاسداری اور پرامن رویہ قابل تعریف ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی صبر، حکمت اور عدل کی تلاش کی تلقین کرتی ہیں۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ جلد از جلد سماعت کرتے ہوئے ایسا فیصلہ دےگی ،جو دونوں طرف کے جذبات کا احترام کرے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرے۔بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کی صدیوں پرانی آواز خاموش نہیں ہو ئی ہے۔ یہ صرف قانونی لڑائی نہیں بلکہ تاریخی حق، مذہبی آزادی اور سیکولر بھارت کے تشخص کی لڑائی ہے۔اپنے ملک کے آئین اور عدلیہ پر بھروسہ رکھا جائے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ،دیر سویر جیت حق اور انصاف کی ہی ہوگی۔
*********

