مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے دورکا آغاز

تاثیر 9 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ شوبھندو ادھکاری نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ پی ایم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر بی جے پی رہنماؤں کی موجودگی میں بنگلہ زبان میں حلف لینے والے شوبھندو ادھکاری کے ساتھ دلِیپ گھوش، اگنی مِترا پال اور دیگر وزراء نے بھی حلف اٹھایا ۔ آزادی کے بعد پہلی بار بی جے پی کی حکومت بننے کا یہ واقعہ یقیناً تاریخی ہے۔ بی جے پی نے 293 نشستوں میں سے 207 حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کرکے ممتا بنرجی کی طویل حکمرانی کو ختم کر دیا ہے۔
شوبھندو ادھکاری نے کل ہوئ تاجپوشی کے اس موقع کو’’ اتہاسک صبح‘‘ قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے آباؤ اجداد کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ امت شاہ کی نگرانی میں ہوئی میٹنگ کے بعد گورنرآر این راوی نے اسمبلی تحلیل کر کے نئی حکومت کی راہ ہموار کی۔ بعض ماہرین اس تبدیلی کو بنگال کی سیاست میں فکری تبدیلی (پارا ڈائم شفٹ) کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی 13 سالہ حکمرانی کے بعد بی جے پی نے واضح مینڈیٹ حاصل کیا ہے۔اس سے قبل 34 سالہ لیفٹ فرنٹ کی حکومت کے بعد 2011 میں بنگال کا مزاج بدلا تھا اور ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی نے مغربی بنگال کی کمان سنبھالی تھی۔
یہ کھلی حقیت ہے کہ بی جے پی کو یہ فتح بغیر تنازع کے نہیں ملی ہے۔ ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج آنے کے بعد ووٹ چوری اور بے ایمانی کے سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کی طرفداری کا الزام لگاتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی ’’ووٹ چوری‘‘ کی بات کی۔ دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہار کا بہانہ قرار دیا۔ انتخابی عمل کے دوران اور نتائج کے بعد تشدد کے واقعات، بی جے پی لیڈر کے پی اے چندرناتھ رتھ کی ہلاکت، اور ٹی ایم سی دفاتر پر حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ظاہر ہے یہ واقعات بنگال میں قانون و نظم کی صورتحال پر سنگین سوالات کی مانند ہیں۔
بی جے پی کی جیت کو اس کے کارکنوں کے طویل جدوجہد اور’’ہندوتو وادی ‘‘ بیانیے کی مقبولیت سے جوڑا جا رہا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ جیت ترقی، بدعنوانی کے خاتمے اور صنعتی بحالی کی عوامی خواہش کا نتیجہ ہے۔ بنگال، جو ایک زمانے میں صنعتی اور ثقافتی طور پر آگے تھا، گزشتہ برسوں میں بدعنوانی، سیاسی تشدد، اور سرمایہ کاری کی کمی کا شکار رہا ہے۔ نئی حکومت اگر شفافیت، قانون کی حکمرانی اور تمام طبقات کےلئے یکساں مواقع کی پالیسیاں اپنائے تو ریاست کی تقدیر بدل سکتی ہے۔حالانکہ چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج سماجی ہم آہنگی کا ہے۔ بنگال میں مسلم آبادی ایک بڑی تعداد میں ہے۔ریاست کی تاریخ میں فرقہ وارانہ ہنگاموں، فسادات اور مذہبی حساسیت کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ایسے میں نئی بی جے پی حکومت کو اس حساسیت کا خیال رکھنا ہوگا، تاکہ کوئی بھی فیصلہ یا قدام فرقہ وارانہ تناؤ پیدا نہ کر دے۔ نئی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تمام مذاہب اور کمیونٹیز کی یکساں ترقی کی ضامن ہے۔ وقف املاک، تعلیم اور مذہبی آزادی جیسے مسائل پر احتیاط برتنی ہوگی۔ اقلیتوں کے خدشات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مکالمہ اور اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم چیلنج قانون و نظم بحال کرنا ہے۔ انتخابی تشدد اور انتقامی کارروائیوں کی روک تھام کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ نئی حکومت
کو سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر ریاست میں امن و امان کی فضا قائم کرنی ہوگی۔ معاشی محاذ پر بنگال کو انڈسٹری، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے پرکشش بنانا ہوگا۔ ممتا بنرجی کی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ بی جے پی کو ان غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے شفاف گورننس کا ماڈل پیش کرنا ہوگا۔
اپوزیشن کے لئے بھی یہ سبق ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی نے طویل عرصہ تک حکومت کی، مگر عوام کی بڑی تعداد نے اس بار تبدیلی کا ووٹ دیا۔ اپوزیشن کو اب تعمیر و تنقید کا متوازن راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ الزام تراشی کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔بھارت کی وفاقی سیاست میں بنگال کی یہ تبدیلی قومی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ ایک بڑی کامیابی ہے، جو اسے مشرقی بھارت میں مزید مضبوط کرے گی۔ تاہم، جمہوریت کی خوبصورتی ہی اختلافات میں ہے۔ نئی حکومت کا امتحان اس بات سے ہوگا کہ وہ کس قدر جامع، شفاف اور ترقی پسند ثابت ہوتی ہے۔
شوبھندو ادھکاری کی قیادت میں نئی حکومت کو’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘‘کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بنگال کو ایک نئی پہچان دلانی ہوگی۔ اگر وہ عوامی توقعات پر پورا اترے تو یہ دور نہ صرف بی جے پی بلکہ پوری ریاست کے لئے ایک نئی صبح ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر تقسیم، تشدد اور جانبداری جاری رہی تو یہ موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔بہر حال ریاست کے عوام نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا ہے۔ اب ذمہ داری نئی حکومت کی ہے کہ وہ اس اعتماد کو قائم رکھے اور ریاست کو ترقی، امن اور ہم آہنگی کی راہ پر لے کر چلے۔
**********