بھاگلپور بیٹرمنٹ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام سماجی اصلاح کے لیے اہم اجلاس اور مجلسِ ذکر کا انعقاد

تاثیر 2 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھاگلپور( منہاج عالم)بھاگلپور بیٹرمنٹ فاؤنڈیشن (تنظیم ائمۂ مساجد) کے زیرِ اہتمام شاہ منزل، خانقاہ پیر دمڑیا شاہ میں ائمۂ مساجد، علمائے کرام، سماجی مصلحین اور مساجد کے ذمہ داران کا ایک اہم اور بامقصد اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سید شاہ فخرِ عالم حسن ندوی نے فرمائی۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا نے فاؤنڈیشن کے سترہ نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ موجودہ حالات میں سماجی اصلاح کے لیے یہ ایجنڈا نہایت اہمیت کا حامل ہے، اور اگر اسے اخلاص و دیانت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مذہب، برادری اور اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی، اور منشیات، جہیز جیسی مہلک سماجی برائیوں کے خاتمے نیز تعلیم سے محروم (ڈراپ آؤٹ) بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے سے جوڑنے جیسے اہم مسائل پر خصوصی توجہ دلائی۔اس موقع پر مفتی محمد عفان عباسی نے اس اصلاحی کوشش کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے سترہ نکاتی ایجنڈے کے مؤثر نفاذ کے طریقوں پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے فاونڈیشن  کے تحت منعقدہ گزشتہ اجلاس کی رپورٹ بھی پیش کی اور اس کے دور رس نتائج پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر حبیب مرشد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو قابلِ ستائش اور اہم قدم قرار دیا، اور کہا کہ اس طرح کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہم سب کو بھرپور تعاون کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حتیٰ الامکان اس مشن میں اپنی مؤثر شرکت کو یقینی بنانا چاہیے۔ مولانا اسجد ناظری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’آج معاشرے کو صحیح سمت دینا نہایت ضروری ہو چکا ہے، اور اگر یہ سمت مسجد سے ملے تو اس کی تاثیر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘اسی طرح دیگر معزز مہمانوں، ائمۂ کرام اور مساجد کے ذمہ داران نے بھی اپنے خیالات پیش کیے اور اس اصلاحی تحریک کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر نمازِ مغرب کے فوراً بعد مجلسِ ذکر کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام شرکاء نے نہایت روحانی فضا، عجز و انکسار اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں حصہ لیا۔ اس روحانی نشست نے حاضرین کے قلوب کو منور کیا اور اصلاحِ نفس کے جذبے کو مزید تقویت بخشی۔آخر میں تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس اصلاحی مشن کو اپنے اپنے علاقوں میں عام کریں گے اور معاشرے کی بہتری کے لیے مشترکہ جدو جہد جاری رکھیں گے۔ یہ اجلاس نہ صرف فکری و اصلاحی اعتبار سے اہم ثابت ہوا بلکہ اس نے عملی اقدامات کے لیے ایک بوط بنیاد بھی فراہم کی، جسے ایک مثبت اور دیرپا اثرات کی حامل پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اجلاس میں شریک اہم شخصیات میں سید شاہ علی سجاد صاحب، سید احمد صاحب، مولانا سید شاہ حذیفہ، مفتی سید شاہ سلمان صاحب، مولانا زاہد حلیمی، مولانا عین الحق صاحب، مفتی سیف اللہ صاحب، مولانا اسجد ناظری، تسنیم کوثر، جناب عارفین، مولانا معصوم رضا اشرفی صاحب سمیت دیگر افراد شامل تھے۔ وقف 159 کے تحت قائم ’’انسانی معاونت مرکز‘‘ کے ڈائریکٹر پروفیسر دیبجیوتی مکھرجی بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔