
کل صبح تقریباََ 6:30 بجے رانچی کے ایک ہسپتال میںروزنامہ ’’تاثیر‘‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر محمد گوہرنے اس فانی دنیا کو اچانک الوداع کہہ دیا۔ان کے انتقال کے ساتھ ہی اردو صحافت کا ایک روشن ستارہ غروب ہو گیا۔ ملک کے مختلف مقامات سے ایک ساتھ شائع ہونے والا کثیر الاشاعت اردو روزنامہ ’’تاثیر‘‘ کے ایڈیٹر ایک ایسے صحافی، ادیب اور قا ئد فکر تھے ،جنہوں نے قلم کو نہ صرف خبر کا ذریعہ بلکہ عوام کی آواز، سماج کا آئینہ اور ملک کی ترقی کا آلہ بنایا۔ ان کے اچانک انتقال کی خبر نے دل دہلا دیا ہے۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب سوچتے ہیں کہ اب ’’تاثیر‘‘ کے صفحات پر ان کا وہ دستخط، وہ بصیرت بھرا اداریہ اور وہ جرات مندانہ تجزیہ نظر نہیں آئے گا۔
ڈاکٹر محمد گوہر صاحب ایک ایسے صحافی تھے، جو صرف اخبار نہیں چلاتے تھے بلکہ ایک قومی تحریک چلاتے تھے۔ انہوں نے’’تاثیر‘‘ کو ایک محدود دائرے سے نکال کر پورے ملک میں پھیلا دیا۔ آج یہ روزنامہ بیک وقت پٹنہ، مظفرپور، بھاگلپور، دہلی، بنگلور، گینگ ٹاک، گوہاٹی، راچی، ہاوڑا، چنئی، بھوپال، ممبئی، کولکاتہ اور لکھنو سے ایک ساتھ شائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹکنالاجی کے توسط سے یہ اخبار ملک کے مختلف ممالک میں بڑھا جاتا ہے ۔ڈاکٹر گوہر کا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا خواب تھا، جسے انہوں نے اپنی محنت، وسعتِ نظر اور لگن سے حقیقت کا روپ دیا۔ مشرق سے لے کر مغرب، شمال سے جنوب تک اردو کے قارئین ایک ہی وقت میں ایک ہی معیار کی ’’تاثیر‘‘ پڑھ سکیں، یہ ان کی دور اندیشی اور قومی سوچ کی واضح دلیل ہے۔
ڈاکٹر محمد گوہرجانتے تھے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک ورثہ اور کروڑوں لوگوں کی ترجمانی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس زبان کو زندہ رکھنے، اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کے ذریعے عوامی مسائل کو ملک کے طول و عرض میں اجاگر کرنے کی جو جدوجہد کی، وہ آج مثال بن چکی ہے۔’’تاثیر‘‘ کے ذریعے انہوں نے علاقائی تنوع کو قومی وحدت میں بدلا اور ایک ایسا پلیٹ فارم تخلیق کیا جو مختلف صوبوں کے درد کو ایک ہی آواز میں بیان کرتا ہے۔
ڈاکٹر محمد گوہر کی صحافتی خدمات کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ، متوازن اور اصول پسند صحافت کے حامی تھے۔ جب ملک میں فرقہ وارانہ تناؤ بڑھتا، معاشی مسائل عام آدمی کو نگل جاتے یا سیاستدان عوام کی توجہ دوسری طرف موڑ دیتے تو ڈاکٹر صاحب کا قلم سب سے پہلے اٹھتا۔ ان کے اداریوں میں جذبہ ہوتا، دلیل ہوتی اور سب سے بڑھ کر دردِ دل ہوتا۔ وہ صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھتے تھے۔ ان کی نگرانی میں’’تاثیر‘‘ نے نہ صرف خبریں دیں بلکہ مسائل کے حل میں بھی کردار ادا کیا۔ اقلیتوں کے حقوق، تعلیم، صحت، روزگار اور خواتین کے مسائل پر ان کی مسلسل آواز اٹھی۔
ڈاکٹر محمد گوہر صاحب صرف ایڈیٹر نہیں تھے، ایک معلم بھی تھے۔ نوجوان صحافیوں کو انہوں نے ہمیشہ ہمت افزائی کی۔ ان کے دفتر میں آنے والا ہر نوجوان ان کے تجربے، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ لگن سے متاثر ہوتا۔ وہ کہتے تھے کہ ’’صحافت سچ کا نام ہے، اور سچ کہنے کے لیے دل چاہیے، قلم چاہیے اور ہمت چاہیے‘‘۔ آج جب سوشل میڈیا کی دنیا میں جعلی خبروں کا طوفان ہے، ان جیسی ایماندار اور تجربہ کار شخصیات کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ان کی شخصیت کثیر الجہتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سائنس و ٹکنالاجی کے میدان کے آدمی تھے ، مگر انہوں نے قلم کو ترجیح دی۔ ان کا ذاتی کردار سادہ، متواضع اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا۔ وہ بڑے عہدوں کے شوقین نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے شوقین تھے۔
آج ’’تاثیر‘‘ کا قارئین غمگین ہے، اردو صحافت کا حلقہ سوگوار ہے اور پورا ملک ایک مخلص صحافی کو کھو کر اداس ہے۔ ان کے اہلِ خانہ، دوست احباب اور ساتھی صحافیوں پر جو صبرِ جمیل نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ ہم سب کے لئے یہ ایک سبق ہے کہ زندگی کتنی عارضی ہے۔ جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں، وہی ہماری اصل میراث ہے۔ ڈاکٹر محمد گوہر صاحب نے ایک زندہ، جرات مند اور ذمہ دار صحافتی روایت چھوڑی ہے۔
اب ذمہ داری ان کے جانشینوں اور’’تاثیر‘‘ کی حساس ٹیم پر ہے کہ اس روایت کو مزید آگے بڑھائیں، قلم کو کبھی نہ جھکنے دیں اور عوام کی خدمت کو کبھی نہ بھولیں۔ ڈاکٹر صاحب! آپ کا قلم خاموش ہو گیا مگر آپ کی ’’تاثیر‘‘، جو پٹنہ سے لے کر چنئی اور گینگ ٹاک سے لے کر ممبئی تک ایک ساتھ گونجتی رہی ہے ، وہ آگے بھی گونجتی رہے گی ، وہ میشہ زندہ رہے گی۔ آپ کی یادوں میں، آپ کے لکھے ہوئے الفاظ میں اور لاکھوں قارئین کے دلوں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین!
*******

