!وہ ایک شخص نہیں، مستقل ادارہ تھا

تاثیر 6 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈاکٹر محمد گوہر کی رحلت سے اردو صحافت نے صرف ایک صحافی نہیں، بلکہ ایک مکمل ادارہ کھو دیا ہے۔ رانچی کے ہسپتال میں جب ان کی روح اس فانی دنیا سے رخصت ہوئی تو لگا کہ ایک طویل تاریخ، ایک بے باک آواز اور ایک زندہ ضمیر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ہے۔ دل پر بھاری سناٹا چھا گیا، آنکھیں نم ہوگئیں اور ایک ایسا خلا محسوس ہوا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر محمد گوہر ایک شخص نہیں تھے، بلکہ ایک مستقل ادارہ تھے۔ 2013 میں جب انہوں نے روزنامہ ’’تاثیر‘‘ کا بیج بوا تو یہ محض ایک اخبار شروع کرنے کا کوئی سادہ سا خواب نہیں تھا۔ وسائل انتہائی محدود تھے، مشکلات کی کوئی انتہا نہیں تھی، مگر ان کے عزم اور حوصلے پہاڑوں سے بلند تھے۔ خود ایڈیٹر بھی، خود پروپرائٹر بھی۔ راتوں کی نیند قربان کرتے، وسائل کا فقدان ہوتا مگر عوام کی خدمت کا جذبہ انہیں آگے بڑھاتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’’تاثیر‘‘ آج بھارت کے متعدد شہروں، پٹنہ، مظفرپور، بھاگلپور، دہلی، بنگلور، راچی، کولکاتہ، ممبئی، چنئی اور دیگر مقامات، سے ایک ساتھ شائع ہوتا ہے اور اس کا ڈیجیٹل ورژن دنیا کے تقریباً 21 ممالک میں اردو کے قارئین تک پہنچ رہا ہے۔ یہ ایک فرد کا کارنامہ نہیں، ایک ادارے کی تخلیق تھی۔
ڈاکٹر محمد گوہر سفر کے شیدائی تھے۔ مختلف ممالک کا سفر کرتے، وہاں کی تہذیب، ثقافت، ترقی اور سماجی ڈھانچے کو گہری نظر سے دیکھتے۔ واپسی پر ان کی گفتگو ان مشاہدات سے بھری ہوتی۔ وہ صرف دیکھتے نہیں تھے، بلکہ سوچتے تھے کہ ان خوبیوں کو اپنے وطن میں کیسے منتقل کیا جائے۔ ایک سفرنامہ لکھنے کا ارادہ بھی ان کے دل میں تھا، مگر تقدیر نے انہیں اس کی مہلت نہ دی۔
وہ صحافت کو کاروبار کی بجائے ایک مقدس فریضہ سمجھتے تھے۔ ان کا قلم درد مند تھا، حقیقت پسند تھا اور اصولوں پر قائم تھا۔ اقلیتوں کے حقوق، غریبوں کی جدوجہد، نوجوانوں کی بے روزگاری، خواتین کے مسائل، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور معاشرتی ناانصافیوں جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں معاشرے کے آئینے کی طرح تھیں۔ وہ جعلی خبروں اور سنسنی خیز صحافت کے اس دور میں متوازن، ذمہ دارانہ اور باوقار صحافت کے نمونہ تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ صحافی کا کام صرف خبر دینا نہیں، بلکہ سماج کو صحیح سمت دکھانا اور اسے بہتر بنانے کی مسلسل جدوجہد ہے۔
سائنس اور کمپیوٹر کی دنیا کا فرد ہونے کے باوجود انہوں نے قلم کو اپنا اصل مشن بنا لیا۔ سادگی ان کی شخصیت کا امتیازی وصف تھی۔ متواضع انداز، اللہ پر گہرا بھروسہ اور ہمیشہ مسکراتا چہرہ ، یہی ان کی پہچان تھی۔ دفتر میں وہ نوجوان صحافیوں کے لئے صرف مالک نہیں، بلکہ گارجین، استاد اور رہنما تھے۔ ان کی باتوں میں وقار تھا، آنکھوں میں محبت تھی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے، “بھائی میرے، صحافت میں دل چاہئے۔ دل میں درد نہ ہو اور جاں پر سوز نہیں ہو تو قلم سچ نہیں لکھ سکتا۔‘‘
ڈاکٹر محمد گوہر کی قیادت کا انداز نرالا تھا۔ وہ کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے۔ ناراضگی میں بھی خاموش رہ کر سبق دیتے۔ اپنے عملے کے لئے انہوں نے تنخواہ کی ادائیگی کا ایک شفاف اور منظم نظام قائم کیا تھا، جو آج بھی مثال بن سکتا ہے۔ ان کے جانے کے بعد ’’تاثیر‘‘ کے دفتر کے ہر گوشے میں ایک عجیب خلا محسوس ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد گوہر نے صرف ایک اخبار نہیں چلایا، بلکہ ایک روایت قائم کی، سچائی، عدل، توازن اور عوام کی بے لوث خدمت کی روایت۔ آج اردو صحافت کے حلقے میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔ قارئین سوگوار ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اس خلا کو بھرنے کا ذمہ کون اٹھائے گا۔ مگر وہ ایک گوہر نایاب تھے۔ ان کی میراث ان کے لکھے ہوئے الفاظ، قائم کردہ ادارے اور ان کے تربیت یافتہ صحافیوں میں ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم ڈاکٹر محمد گوہر کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے اور ’’تاثیر‘‘ کو ان کے ویژن اور خواب کے مطابق آگے بڑھنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
****