سرینگر، 02 مئی: لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کا دہشت گردی کے ساتھ “براہ راست تعلق” ہے۔حالانکہ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ منشیات کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی لت کو روکنے کے لئے کوششیں تیز کررہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لوک بھون میں ایل جی سنہا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت 2021 سے مسلسل کوششوں کے باوجود، خاص طور پر نوجوان مردوں اور عورتوں میں منشیات کا استعمال ایک سنگین تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اس حد تک نہیں جس کی ہم نے امید کی تھی۔ ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ نے سپلائی چین کو نشانہ بنانے، نچلی سطح پر آگاہی پھیلانے اورمنشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے تین جہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ سیکورٹی کے مضمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اکثر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “منشیات کے اسمگلروں کی ترقی ہو سکتی ہے، لیکن یہ رقم بالآخر دہشت گردی اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ ایل جی سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں شروع کی گئی 100 روزہ مہم میں بڑے پیمانے پر عوامی شرکت دیکھنے میں آئی ہے، جس میں لاکھوں افراد بشمول نوجوان، خواتین، مذہبی رہنما، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی گروپس نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کی ہے۔، انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان اقدامات میں ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی، گاڑیاں ضبط کرنا، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا، جائیدادوں کی قرق اور پاسپورٹ کی منسوخی کی سفارشات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “مفرور افراد کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور سپلائی چین کو توڑنے کے لیے پورے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایل جی نے یہ بھی کہا کہ حکام مناسب سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے ڈی ایڈکشن اور بحالی کے مراکز کی نگرانی کررہے ہیں اور انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہ عدم تعمیل مراکز کو بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نشے کے علاج کے لیے او پی ڈی اور آئی پی ڈی خدمات کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ایسے نظام پر بھی کام کر رہے ہیں جس سے صحت یاب ہونے والے افراد کو تین سال تک ٹریک کیا جا سکے تاکہ مستقل بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

