تاثیر 13 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نیٹ ۔یوجی سی ، 2026کے پیپر لیک کیس میں تفتیشی ایجنسیوں کو ایک اہم کامیابی ملی ہے۔ مہاراشٹر کے ناسک سے 30 سالہ بی اے ایم ایس طالب علم شبھم کھیرنار کی گرفتاری اس ریکٹ کی ایک اہم کڑی ثابت ہو رہی ہے۔سی بی آئی نے اب اس کیس کی تفتیش سنبھال لی ہے اور شبھم سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یہ گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ صرف ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم، انٹر اسٹیٹ مجرمانہ نیٹ ورک ہے، جو بہار، راجستھان، مہاراشٹر، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ تک پھیلا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شبھم نے خود کوئی کالج اٹینڈ نہیں کیا تھا۔ 2021 میں مدھیہ پردیش کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد وہ کبھی کلاس میں حاضر ہی نہیں ہوا۔ اس نے مبینہ طور پر پونے کے ایک ملزم سے 400 سوالات والا گیس پیپر 10 لاکھ روپے میں خریدا اور اسے ہریانہ کے ایک خریدار کو 15 لاکھ میں بیچ کر 5 لاکھ کا ناجائز منافع کمایا۔ یہ لین دین انکرپٹڈ ایپس اور ٹیلی گرام کے ذریعے ہوا۔ تفتیشی افسران کا خیال ہے کہ شبھم پیپر لیک کے اصلی مجرم تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس نیٹ ورک کے دیگر اہم کردار بھی سامنے آ چکے ہیں۔ بہار کے مظفرپور سے اویدھیش کمار، موتیہاری سے امن کمار سنگھ، پنکج کمار اور فرار ملزم اُجّول عرف راجہ بابو جیسے نام شامل ہیں۔ یہ طلبہ اور سولوَر گینگ مڈل مین، لاجسٹکس، کیش ہینڈلنگ اور ٹیکنیکل سپورٹ کے ذریعے پورے آپریشن کو چلا رہے تھے۔ ایک سیٹ کے لئےلئے 20 سے 60 لاکھ روپے تک ڈیلز ہوئے۔ اب تک سات سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں، متعدد موبائل فون ، فرضی ایڈمٹ کارڈز، نقد رقم اور لگزگای گاڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔
یہ اسکینڈل تعلیم کے مقدس میدان میں ایک سنگین غداری ہے۔ نیٹ جیسا امتحان، جو ملک بھر کے ذہین طلبہ کو میڈیکل سیٹوں کا موقع دیتا ہے، اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ لاکھوں محنت کرنے والے طلبہ، جنہوں نے رات دن ایک کر کے تیاریاں کیں، ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلا گیا۔ جو طلبہ خود میڈیکل کا حصہ ہیں، ان کا اس ریکٹ میں ملوث ہونا خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ یہ نہ صرف انفرادی بدعنوانی بلکہ پورے نظام کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
اس واقعے سے چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا کوچنگ مراکز، پرائیویٹ کالجوں اور سیاسی سرپرستی کی بدولت ایسے نیٹ ورکس پروان چڑھ رہے ہیں؟ کیا پیپر سیٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے عمل میں اتنی بڑی خامی کیوں موجود ہے؟ اور سب سے اہم بات، کیا ہمارا نظام ایسے مجرموں کو سزا دینے میں سنجیدہ ہے؟ اس معاملے میں کوئی بھی مجرم، چاہے وہ طالب علم ہو، ڈاکٹر ہو یا کوئی اور، معافی کے قابل نہیں ہے۔ایسے جرائم جو لاکھوں بے گناہ طلبہ کے مستقبل کو برباد کرتے ہیں، ان کے لئے قانون کی سخت ترین سزا ضروری ہے۔ سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کو مکمل آزادی دی جانی چاہیے کہ وہ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچائیں، چاہے اس میں کوئی بھی بڑا نام سامنے کیوں نہ آئے۔ عدالتی عمل کو تیز کیا جائے اور تمام ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ نیٹ جیسے اہم امتحانات کی سیکیورٹی کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لاک، بائیو میٹرک تصدیق اور متعدد تہوں والی نگرانی سے مضبوط کیا جائے۔ کوچنگ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے، شفافیت لانے اور پیسے کی ہوس پر مبنی تعلیم کے کاروبار کو روکنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ تعلیم قوم کی بنیاد ہے۔ اگر ہم اس بنیاد کو بدعنوانی اور جرائم کی زد میں آنے دیں گے تو نہ صرف نوجوان نسل مایوس ہوگی بلکہ ملک کی ترقی بھی متاثر ہوگی۔ نیٹ ، 2026 پیپر لیک کیس ایک وارننگ ہے۔ اگر مجرموں کوسخت سزا نہ دی گئی تو ایسے اسکینڈلز کا سلسلہ جاری رہے گا۔چنانچہ اب وقت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر تعلیم کے تقدس کو برقرار رکھیں۔ شبھم، اویدھیش، اُجول ور ان جیسے تمام ملزمان کو قانون کی مکمل زد میں لایا جائے۔ معاشرہ اور ریاست دونوں کو یہ پیغام دینا ہوگا ’’میرٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔‘‘ صرف اسی صورت میں ہم ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ بھارت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
***********

