امن ہی ہم سب کی فلاح کا راستہ ہے

تاثیر 24 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

عید الاضحیٰ کے قریب آنے کے ساتھ ہی بھارت میں گائے کی قربانی کا مسئلہ ایک بار پھر حساس سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ آسام میں متعدد عیدگاہ کمیٹیوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گائے کی قربانی سے گریز کریں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بھی ’’ گائے ذبح سے پاک عید‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور قرار دینے اور اس سے متعلق قانون کو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس نام پر ہونے والا ہجومی تشدد اور نفرت کی سیاست ختم ہو سکے۔ ظاہر ہے اس صورتحال سے ملک کے موجودہ سیاسی و سماجی ماحول کی بھر پور عکا سی ہو رہی ہے، جہاں نفرت کی سیاست ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
بھارت جیسے کثیر المذاہب ملک میں گائے ہندو عقائد کے مطابق مقدس ہے۔ متعدد ریاستوں جیسے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش میں گائے ذبح پر پابندی ہے اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں ہیں۔ اس حساسیت کو بعض عناصر سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں افواہوں پر مبنی ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کے افسوسناک واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف بے قصور انسانی جانوں کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس تناظر میں آسام کی عیدگاہ کمیٹیوں کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسلام میں گائے کی قربانی فرض نہیں ہے۔ قربانی کا اصل مقصد اللہ کے حضور تقویٰ، ایثار اور برائیوں سے پاکیزگی ہے۔ ان کمیٹیوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ صرف قانونی طور پر اجازت یافتہ جانوروں کی قربانی کریں، مقررہ مقامات پر کریں، صفائی کا خیال رکھیں اور سوشل میڈیا پر قربانی کی تصاویر و ویڈیوز شیئر نہ کریں تاکہ دوسرے مذاہب کی جذبات مجروح نہ ہوں۔ بلا شبہ یہ ’’حفظ ماتقدم‘‘(پیشگی احتیاط) کی بہترین مثال ہے ۔
ملک کےمسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ کسی بھی قسم کے بہکاوے یا اکساوے میں نہ آئیں۔ عیدالاضحیٰ خوشی اور قربانی کا تہوار ہے، اسے نفرت اور تناؤ کا ذریعہ نہ بننے دیں۔ اسلامی تعلیمات صبر، حکمت اور امن کی تلقین کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو قانون کی پابندی اور  اپنے مذہبی حقوق کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے، پرامن طریقے سے تہوار منانا چاہئے۔ تشدد یا جارحانہ رویہ نہ صرف مذہب بلکہ قوم کے مفاد کے خلاف بھی ہے۔
دوسری طرف، ملک کے تمام امن پسند عوام، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کو چاہئے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں۔ کچھ مفاد پرست عناصر ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو فرقہ وارانہ اشتعال پیدا کرنے اور ملک کے آئین و جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جائیں۔ ہماراآئین (آرٹیکل 25-26) ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے لیکن اس آزادی میں، دوسروں کے حقوق اور مذہبی عقائد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ایسے میں بھارت کے تمام شہریوں کو چاہئے کہ وہ نفرت پھیلانے والوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں اور امن کی فضا کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انتظامیہ اور پولیس کو بھی غیر جانبداررہتے ہوئے قانون کی حکمرانی کویقینی بنانا چاہئے۔
مولاناارشد مدنی کا مطالبہ کہ گائے کو قومی جانور قرار دے کر پورے ملک میں یکساں قانون بنایا جائے، غور طلب ہے۔ حالانکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف اس سے تھوڑا مختلف ہے۔ بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے بزرگوں کو چاہئے کہ کوئی بھی بیان، اس سے مرتب ہونے والے اثرات پر غور و فکر کرنے کے بعد ہی دیں۔ ‘‘فی الحال مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں، جو دوہرے معیار کا تاثر دیتے ہیں۔ اگر حکومت ایک واضح، یکساں اور منصفانہ پالیسی بنائے جو ہندو عقائد کا احترام کرتے ہوئے اقلیتوں کے جائز مذہبی حقوق بھی محفوظ رکھے تو یہ مستقل حل ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کو ووٹ بینک کی سیاست کا ذریعہ نہ بنانا چاہئے۔ یعنی ہرحال میں گائے کے نام پر نفرت کی سیاست بند ہونی چاہئے۔ بھارت کی ترقی اور استحکام اسی میں ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ باہمی احترام کے ساتھ رہیں۔ عیدالاضحیٰ کے اس موقع پر تمام کمیونٹیز سے توقع ہے کہ وہ بھائی چارے، رواداری اور آئینی اقدار کو تقویت دیں گی۔ مسلمان صبر سے کام لیں، اور پورا ملک مل کر ایسے عناصر پر نظر رکھے،جو ملک کی وحدت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہم سب کو یہ بات ذہن نشیں کر لینی چاہئے کہ امن ہی ہم سب کی فلاح کا راستہ ہے۔