تاثیر 9 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،09مئی:ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے’پروجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کر سکتا ہے، جسے چند روز قبل معطل کر دیا گیا تھا۔ٹرمپ نے گزشتہ روز جمعہ کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت کہا:میرے خیال میں پروجیکٹ فریڈم اچھا ہے، لیکن میرے خیال میں ہمارے پاس یہ کام کرنے کے دوسرے طریقے بھی موجود ہیں۔انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر ایران کا ردعمل سنجیدہ نہ ہوا تو’پروجیکٹ فریڈم‘دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بار کچھ ’اضافوں‘ کے ساتھ شروع ہو گا۔ٹرمپ نے کہا:یہ پروجیکٹ فریڈم پلس ہوگا، یعنی پروجیکٹ فریڈم کے ساتھ مزید کچھ اقدامات بھی شامل ہوں گے۔تاہم امریکی صدر نے ان اضافی اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو امریکا دوبارہ ایران پر حملوں کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے گزشتہ جمعرات کی شب جنوبی ایران میں کئی مقامات پر حملے کیے، جبکہ جمعہ کے روز اْن ایرانی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جو ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ پیش رفت اْس وقت سامنے آئی جب سینٹکام نے گزشتہ اتوار آبنائے ہرمز میں ”پروجیکٹ فریڈم” آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا تھا۔ایران کی دھمکیوں کے بعد 28 فروری سے یہاں جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔

