خودمختاری کی حفاظت کے معاملے میں ایران حق بجانب

تاثیر 01 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مڈل ایسٹ میں ایک بار پھر کشیدگی کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔ ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح اعلان کر دیا ہے کہ وہ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بیان اس حوالے سے انتہائی اہم ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران اب کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا، جو اس کے عوام کے حقوق کی مکمل حفاظت نہ کرے۔ ظاہر ہےیہ بیان ایران کی بڑھتی ہوئی خود اعتمادی اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے معاملے میں اس کی حساسیت کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔
ایران کا موقف بالکل واضح ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اب وہ کمزور نہیں رہا۔ برسوں کی پابندیوں، معاشی دباؤ اور فوجی دھمکیوں کے باوجود ایرانی قوم نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں اہم شق یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے معاملے کو حل کیا جائے۔ ایران ان شرائط کو اپنی خودمختاری پر حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا کہ جب تک ایران کے حقوق کی مکمل ضمانت نہ ہو، کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی اپنے سخت گیر موقف پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انہیں کوئی جلدبازی نہیں ہے اور وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو مکمل طور پر امریکہ کے مفاد میں ہو۔ وھائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی یہی موقف دہرایا ہے۔ امریکی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسوتھ کی جانب سے یہ وارننگ دی گئی ہے کہ اگر بات چیت امریکی شرائط پر نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
اس تناظر میں ایران کا موقف قابل فہم اور حد درجہ جائز ہے۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے، جسے اپنے دفاع اور قومی مفادات کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ایرانی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں، مگر ایران نے انہیں موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی اندرونی طاقت کو بڑھایا ہے۔ ایرانی عوام کی استقامت اور قیادت کی حکمت عملی نے اسے اس مقام پر پہنچایا ہے ،جہاں وہ اب دباؤ میں جھکنے کے بجائے واضح پیغام دے رہا ہے کہ ’’ہم جنگ کے لیے تیار ہیں‘‘۔ حالانکہ متوازن نظریہ رکھنے والوں کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ جوہری پھیلاؤ کا مسئلہ عالمی امن کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ امریکہ کا مطالبہ کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے، منطقی طور پر درست ہے اگر یہ تمام ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل جیسے ممالک کے جوہری پروگرام پر کوئی پابندی نہیں ہے، جبکہ ایران پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ظاہر ہے یہ دوہرا معیار عالمی نظام کی کمزوری کو منعکس کرتا ہے۔
ایران کی موجودہ حکمت عملی علاقائی استحکام کے لئے بھی اہم ہے۔ اگر ایران کو مسلسل دبایا گیا تو پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ عالمی معیشت کے لئے تباہ کن ہوں گے۔ تیل کی سپلائی، سمندری راستوں کی سلامتی
اور علاقائی ممالک کی معیشت سب متاثر ہوں گے۔
چنانچہ اس وقت سب سے اہم ضرورت صبر اور کثیرالجہتی سفارتکاری کی ہے۔ ایران نے جو عزم ظاہر کیا ہے، وہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اب مزید ذلت آمیز معاہدوں کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود، دونوں فریقوں کو بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہئے۔ ایران کا مطالبہ کہ اس کے عوام کے حقوق محفوظ ہوں، بالکل جائز ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ حقیقی امن چاہتی ہے تو اسے دباؤ کی سیاست چھوڑ کر باہمی احترام پر مبنی معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
بہر حال ایران کی یہ استقامت نہ صرف اس کی قومی خودداری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر چلنے والی پالیسیاں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتیں۔ عالمی برادری کو اس بحران کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایسا حل تلاش کرنا چاہئے جو ایران کی خودمختاری کا احترام کرے اور خطے میں امن قائم کرے۔لہٰذا، ایرانی قوم کا یہ پختہ ارادہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔ امید ہے کہ عقل مندی غالب آئے گی اور دونوں فریق امن کی راہ پر چلیں گے، ورنہ نتائج ہر ایک کے لیے مہنگے پڑ سکتے ہیں۔