مظفرپور اسپتال آتشزدگی: 18 دن بعد ایک اور مریض کی موت، ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی

تاثیر 23 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور: (نزہت جہاں) پرساد اسپتال میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے 18 دن بعد ایک اور مریض دم توڑ گیا، جس کے بعد اس سانحے میں جان گنوانے والوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ متوفی کی شناخت ترکی تھانہ علاقے کے چڑھوا گاؤں کے رہائشی 63 سالہ سنجیو کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق،  سنجیو کمار 29 مئی سے برین ہیمریج کے علاج کے لیے اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج تھے۔ آتشزدگی کے وقت وہ آئی سی یو میں موجود تھے اور زہریلے دھوئیں کی زد میں آ گئے تھے۔ متوفی کے بیٹے کیشو کمار نے بتایا کہ حادثے کے دوران اسپتال میں افراتفری مچ گئی تھی اور آئی سی یو دھوئیں سے بھر گیا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر والد کو باہر نکالا۔ اسپتال عملے اور دیگر لوگوں کی مدد سے انہیں وینٹی لیٹر سمیت محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں بہتر علاج کے لیے انہیں پٹنہ کے میدانتا اسپتال بھیجا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ آگ سے پیدا ہونے والے زہریلے دھوئیں نے ان کے پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ تقریباً 18 دن تک وینٹی لیٹر سپورٹ اور مسلسل علاج کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔ اس تازہ موت کے بعد پرساد اسپتال آتشزدگی سانحے میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی انخلا کے نظام اور مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام نے اسپتالوں میں حفاظتی معیارات کی سخت جانچ اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔