تاثیر 01 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کاٹھمنڈو،یکم جون : نیپال کے وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنم واگلے نے واضح کیا ہے کہ حکومت بجلی پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کے فیصلے کو واپس نہیں لے گی۔ حکومت مختلف آپشنز پر کام کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اضافی بوجھ براہ راست صارفین پر نہ پڑے۔
پیر کے روز نیپال اکنامک جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بجٹ کے بعد کے مباحثے کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے واگلے نے کہا کہ حکومت الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے ذریعے بجلی کے نرخوں کو ایڈجسٹ کرنے اور کم آمدنی والے خاندانوں کو فراہم کیے جانے والے مفت بجلی یونٹوں کی تعداد بڑھانے جیسے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ واگلے نے کہا کہ ویٹ نافذ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویٹ وہی رہے گا، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بوجھ آخری صارف پر نہ پڑے۔انہوں نے استدلال کیا کہ بجلی پر 5 فیصد ویٹ کے بارے میں جو خدشات اٹھائے جا رہے ہیں وہ مبالغہ آمیز ہیں۔ ان کے مطابق، اصل ٹیکس کا بوجھ 5 فیصد سے بھی کم ہے کیونکہ پہلے 50 یونٹ بجلی مفت ہوتی ہے۔ واگلے نے کہا’ایک خاندان جو 150 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے وہ کتنا ادا کرتا ہے؟ 5 فیصد ویٹ کے باوجود، مؤثر ٹیکس کا بوجھ 5 فیصد سے بھی کم ہے، کیونکہ 50 یونٹ مفت ہیں۔ 150 یونٹس استعمال کرنے والے گھرانے کے لیے مؤثر ٹیکس کی شرح تقریبا 3 فیصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام بجلی کا بل 800 سے 900 روپے ہے اور ویٹ کی وجہ سے اضافی ادائیگی تقریبا 24 روپے ہے۔ لیکن اسے اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے اچانک صارفین پر بہت بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہو۔ وزیر خزانہ نے آنے والے مالی سال کے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے معاشی اصلاحات کا سنگ بنیاد اور نوجوانوں کے لیے نئی امید کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا مقصد نوجوان گریجویٹس کے لیے نیپال میں ہی ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ دس لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ کو ایک ’انقلابی‘ قدم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے بازار میں لیکویڈیٹی آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

