تاثیر 27 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مہاراشٹر میں آج 28 جون کو ہونے والا ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) 2026 کی اچانک منسوخی کے اعلان نے تعلیمی نظام کی کمزوری کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ بھونڈی میں پولیس کی چھاپہ ماری کے دوران پیپرلیک کی تصدیق کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامنیشن کونسل نے ٹیسٹ کی منسوخی کا فیصلہ کیا ہے۔ تقریباً 4 لاکھ 28 ہزار امیدوار، جن میں سے 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد سروس ٹیچرز شامل تھے، مہینوں کی تیاری کے بعد مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ پچھلے ماہ یو جی نیٹ پیپر لیک کے فوراً بعد پیش آیا ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامنیشن کونسل کا کہنا ہے کہ 1028 مراکز پر ہونے والے اس امتحان کی تیاریاں نیٹ 2026 میں در آئی خامیوں کے مدنظر کی گئی تھیں، پھر بھی پیپر لیک ہو گیا۔ بھنڈی پولیس نے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ان کے پاس سے اصل پیپر سے ملتے جلتے سوالات بر آمد کئےگئے ہیں۔ کونسل کے ذمہ داروں کے مطابق ٹسٹ کی نئی تاریخ دو تین دنوں میں اعلان کی جائے گی۔اس کے لئے امیدواروں سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔ دوبارہ رجسٹریشن کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، یہ یقین دہانیاں ہزاروں امیدواروں کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں، جنہوں نے گرمی کی تعطیلات میں شب و روز تیاریاں کی تھیں۔
پیپر لیک کا معاملہ صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے۔ ابھی حال میں ہی یو جی نیٹ کا پیپر لیک ہو جانے کے بعد دوبارہ امتحان کرایا گیا، مگر اس کو لیکرسیاسی ہنگامہ اب تک جاری ہے۔ کانگریس نے بی جے پی حکومت کو’’پیپر لیک گورنمنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈرز تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ جیسے پلیٹ فارمز بھی اس ناکامی کی ذمہ داری لینے سے انکار پر حکومت کو تنقیدکا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس بحران کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر طلبہ اور امیدوار ہیں۔ ایک امیدوار کا کہنا ہے کہ 15 سال کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔ ٹی ای ٹی پاس کرنا 2028 تک ٹیچرز کے لئے لازمی ہے، مگر بار بار تاخیر اور عدم یقین سے ان کا مستقبل داؤ پر ہے۔ پرنسپلز ایسوسی ایشن اور ٹیچر ویلفیئر ایسوسی ایشنز نے بھی اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔اس معاملے کے جزیات پر غور کرنے پر بد عنوانی ،ناقص نگرانی اور ٹیکنالوجی کا عدم استعمال جیسی خامیاں سامنے آتی ہیں۔ سیاسی مداخلت، نجی اداروں کی ملی بھگت اور کمزور احتساب کا نظام بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ ظاہر ہے،نیٹ اور ٹی ای ٹی جیسے امتحانات نہ صرف کیریئر بلکہ قومی انسانی وسائل کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان میں بے ضابطگیاں معاشرتی ناانصافی کو بڑھاوا دیتی ہیں اور مستحق امیدواروں کا حوصلہ پست کرتی ہیں۔حالانکہ حکومت نے فوری کارروائی کر کے کچھ حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ ضرور کیا ہے، مگر یہ کافی نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اصلاحات لائیں۔ اس کے لئے ڈیجیٹل سیکورٹی، معقول مانیٹرنگ، سخت سزاؤں کا بندوبست، شفاف پراسیس، اور آزاد تحقیقاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔
ٍ بلا شبہ تعلیم کا شعبہ قوم کی بنیاد ہے۔ جب اس کی بنیاد ہلنے لگے تو پورا ڈھانچہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ پیپر لیکس کا سلسلہ روکنا صرف ایک امتحان کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی اعتماد بحال کرنے کا معاملہ ہے۔ حکومت، اپوزیشن، عدالتیں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو اور تعلیمی نظام دوبارہ قابل اعتماد بن سکے۔امید کی جا سکتی ہے کہ مہاراشٹر ٹی ای ٹی کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا اور اس بار اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ مستقبل میں ایسی ناہمواریاں دہرائی نہ جائیں۔بصورت دیگر تعلیمی نظام کی یہ کمزوری نوجوانوں کے حوصلے کو پست کر دیگی اور یہ صورتحال قوم کی طویل مدتی ترقی کو بھی متاثر کرے گی۔
***************

