سوریا پتری توی دریا میں شدید آلودگی سے لوگ پریشان

تاثیر 21 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جموں, 20 جون :۔ جموں، ادھم پور اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں باشندوں کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والا سوریا پتری توی دریا شدید آلودگی کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے، کیونکہ 26 نالوں سے نکلنے والا تقریباً غیر صاف شدہ سیوریج، گھریلو، صنعتی اور دیگر زہریلا فضلہ براہِ راست دریا میں ڈالا جا رہا ہے، جس سے یہ آبی ذخیرہ بتدریج ایک بڑے گندے نالے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے مطابق توی دریا میں آلودگی کی بنیادی وجوہات جموں شہر کا غیر صاف شدہ سیوریج، میونسپل ٹھوس فضلہ، تعمیراتی ملبہ اور مختلف صنعتی و تجارتی اداروں سے خارج ہونے والے آلودہ مادے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دریا میں مجموعی طور پر 26 نالے براہ راست شامل ہوتے ہیں، جن میں 20 نالے دائیں جانب اور 6 بائیں جانب سے آ کر توی میں گرتے ہیں۔ گجر نگر علاقہ آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سے آٹھ نالے، بشمول مرکزی گجر نگر نالہ، دریا میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈھونتھلی، پیر کھو، جوگی گیٹ، پریم نگر، کرسچین کالونی، قاسم نگر، ریہڑی، کرشنا نگر، راجندر نگر اور بھگوتی نگر کے نالے بھی براہ راست تاوی میں گرتے ہیں۔