ایم پی سے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ کو لے کر سسپنس، بی جے پی صدر کا انکار

تاثیر 07 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 7 جون :مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی خالی ہونے والی تین سیٹوں کو پر کرنے کے لیے دو سالہ انتخاب کو لے کر سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کی تعداد کے حساب سے راجیہ سبھا کی دو سیٹوں پر بی جے پی اور ایک سیٹ پر کانگریس کی جیت طے ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کے اشاروں سے لگتا ہے کہ بی جے پی کی نظر تیسری سیٹ پر بھی ہے، جبکہ بی جے پی صدر اس سے انکار کر رہے ہیں۔ اس سے سیاسی حلقوں میں ایک نیا سسپنس پیدا ہو گیا ہے۔
دراصل، مدھیہ پردیش اسمبلی میں فی الحال 228 ارکان ووٹنگ کے اہل ہیں۔ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے کے لیے 58 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے پاس 164 ارکانِ اسمبلی ہیں، جبکہ کانگریس کے پاس 63 ارکانِ اسمبلی ہیں۔ دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے بعد بی جے پی کے پاس تقریباً 48 ووٹ بچیں گے۔ ایسے میں تیسری سیٹ جیتنے کے لیے اسے مزید 10 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس میں کراس ووٹنگ کے خدشات اور بی جے پی کی ممکنہ حکمتِ عملی کو لے کر بحث تیز ہے۔