تاثیر 25 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ٹھاکرگنج (محمد شاداب غیور)
25 جون 1975 کا دن ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا سب سے سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ اسی دن اُس وقت کی کانگریس حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین، صحافت اور عوامی آواز کو دبانے کا کام کیا تھا۔ یہ باتیں بی جے پی کے ضلع نائب صدر بجلی سنگھ نے پارٹی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران کہیں۔ انہوں نے کہا، “25 جون 1975 کو کانگریس نے اقتدار کے غرور میں جمہوریت کا قتل کر دیا تھا۔ لاکھوں محبِ وطن افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور پریس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ بی جے پی کے لاکھوں کارکنوں نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرکے جمہوریت کو بچایا تھا۔ آج کی نسل کے لیے اس سیاہ حقیقت کو جاننا ضروری ہے۔” سابق ضلع صدر بھارتیہ جنتا یووا مورچہ گوتم چندرونشی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “ایمرجنسی کانگریس کی آمرانہ ذہنیت کی علامت ہے۔ جس جماعت نے آئین کو پامال کیا، وہ آج آئین بچانے کا ڈھونگ کر رہی ہے۔ یووا مورچہ گھر گھر جا کر ایمرجنسی کی حقیقت لوگوں تک پہنچائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی جمہوریت کو کچلنے کی جرأت نہ کر سکے۔”
بی جے پی کے ضلع وزیر گورو گپتا نے کہا، “ایمرجنسی کے دوران اظہارِ رائے کی آزادی سلب کر لی گئی تھی۔ جے پی تحریک سے وابستہ رہنماؤں کو جیلوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ بی جے پی کا ہر کارکن جمہوریت کا محافظ ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آئین اور جمہوریت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔” پروگرام کے اختتام پر ایمرجنسی کے دوران شہید ہونے والے جمہوریت کے سپاہیوں کو دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع کے درجنوں بی جے پی عہدیداران، منڈل صدور اور کارکنان موجود تھے۔

