مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کا آغاز

تاثیر 16 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

امریکہ اور ایران کے درمیان 107 دنوں تک جاری رہنے والے تنازع اور محدود جنگ کا خاتمہ بالآخر ایک جامع معاہدے کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ اتوار کی دیر شب اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے’’علاقائی امن کی شاندار ڈیل‘‘ قرار دیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ثالثی، قطر کی سہولت کاری اور یورپی ممالک کی حمایت سے طے پانے والا یہ معاہدہ نہ صرف فارس کی خلیج میں تیل کی نقل و حرکت بحال کرے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی سانس لینے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ ایران کے لئے ایک سفارتی کامیابی اور بھارت جیسے بڑے توانائی درآمد کنندگان کے لئے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
معاہدے کے مطابق دونوں فریق،  لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہر مز کو دوبارہ کھولنے، امریکی ناکابندی ختم کرنے، ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی اثاثوں کی جزوی رہائی جیسے اہم نکات اس میں شامل ہیں۔ ایران نے پرامن طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی دہرائی ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اسے’’ایران کی فتح‘‘ قرار دیا ہے جبکہ ٹرمپ نے اسے اپنی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی بتایا ہے۔
اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسرائیل کو براہ راست شامل کیے بغیر اس پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، خاص طور پر لبنان میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے۔ اسرائیل نے اس شق کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بن جامن نتن یاہو نے واضح کیا  ہےکہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے نہیں ہٹے گی اور اپنی سلامتی کے لئے کارروائی جاری رکھے گی۔حالانکہ اس وجہ سے اسرائیلی سیاسی حلقوں میں شدید ناراضگی ہے اور نتن یاہو پر گھریلو دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ معاہدے میں ایرانی پراکسی گروپوں (حزب اللہ، حماس، حوثی) کے خلاف کوئی ٹھوس بندوبست نہیں کیا گیا ہے، جو اس کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔حالانکہ متوازن نظریہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی جنون اور تباہی کو روکنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ طویل جنگ سے پہلے ہی تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں، جو عالمی معیشت کے لئے خطرہ بن گئی تھیں۔ اب آبنائے ہر مز کے کھلنے سے تیل کی سپلائی بحال ہوگی اور قیمتیں بھی گر رہی ہیں۔ بھارت، جو خلیج سے تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، اس استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ توانائی کی سستی دستیابی سے بھارتی معیشت کو ریلیف ملے گا، مہنگائی کم ہوگی اور صنعتی شعبہ بحال ہوگا۔
بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن اور امن کی حامی رہی ہے۔ ایران کے ساتھ بھارت کے تاریخی، تہذیبی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھی دفاعی اور معاشی شراکت داریاں مضبوط ہیں۔چنانچہ یہ معاہدہ بھارت کو ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ علاقائی سفارتکاری میں فعال کردار ادا کرے۔ پاکستان کی ثالثی بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا ئی ممالک کو علاقائی تنازعات کے حل میں فعال ہونا چاہیے۔ویسے بعض ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس معاہدے کے باوجود چیلنجز موجود ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر پراکسی گروپوں پر کنٹرول نہ ہوا تو معاہدہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ ایران کو بھی ، اپنے اوپر نافذ پابندیوں کومکمل ہٹائے جانے اور تعمیر نو کے لئے 300 ارب ڈالر کی امداد کی توقع ہے، جس کی عملی شکل آنے والے دنوں میں واضح ہو سکےگی۔
بہر حال مجموعی طور پر یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی شروعات کی نوید دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ جنگ کی بجائے  سفارتکاری اور ثالثی ہی بہتر راستہ ہے۔ بھارت جیسے ذمہ دار ممالک کو چاہئے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی امن، توانائی سیکورٹی اور معاشی تعاون کو فروغ دیں۔ ایران کی خودمختاری کا احترام اور اسرائیل کے جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے، ایک متوازن اور پائیدار امن کے قیام کی کوشش کی جا سکتی ہے۔موجودہ خوشگوار حالات سے ایسا لگ رہا ہے کہ فارس کی خلیج میں امن کی یہ کرن نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ یہ معاہدہ مستقل امن کی بنیاد بن کر علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی مثال قائم کرے گا۔
**********