مشترکہ میراث کا تحفظ ضروری

تاثیر 22 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

راجستھان کے ضلع جھنجھونو میں واقع گاؤں اسلام پور حالیہ دنوں میں ایک غیر ضروری تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گاؤں کا نام تبدیل کر کے شری رام پور کرنے کی تجویز مقامی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ اسے ثقافتی پہچان کی بحالی قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف اکثریت اسے گاؤں کی صدیوں پرانی وراثت اور بھائی چارے کے ساتھ کھلواڑ سمجھ رہی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک گاؤں کا نام نہیں بلکہ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کی دیرینہ روایت کے ساتھ کھیلنے کی ایک مثال ہے۔
اسلام پور گاؤں کی آبادی تقریباً بیس ہزار ہے۔ یہاں صدیوں سے ہندو اور مسلمان بھائی چارے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ گاؤں کی گلیوں میں پرانی حویلیاں، تاریخی عمارتیں اور دستاویزات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس کا نام طویل عرصے سے اسلام پور ہی چلا آ رہا ہے۔ سرپنچ آمین منیار، ریٹائرڈ کیپٹن اسماعیل خان، منیرام، صبا خانم اور دیگر مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرنےسے قبل نہ تو گاؤں کے لوگوں سے ان کی رائے لی گئی اور نہ ہی کوئی ٹھوس تاریخی دستاویزات پیش کیے گئے ۔ بی جے پی کے مقامی ایم ایل اے راجندر بھامبو کا دعویٰ ہے کہ مغل دور سے پہلے نام شری رام پور تھا، مگر ان کے پاس بھی ابھی تک کوئی حتمی دستاویز موجود نہیں۔ انتظامیہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
اس تنازع کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ محض ایک نام کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی خاطر ملک کی مشترکہ تہذیب کے ساتھ کھلواڑ جیساہے۔ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب، جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کی مشترکہ روایات، تہوار، زبان اور رہن سہن شامل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ اس روایت کے ساتھ جب بھی سیاسی طور پر کوئی کھیل کھیلنے کی کوشش ہوئی ہے، نتیجہ تقسیم، عدم اعتماد اور سماجی تناؤ ہی نکلا ہے۔ سماج کے دانشور طبقہ کا ماننا ہے کہ اسلام پور جیسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ نام بدلنے کی ایسی مہمات حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔
گاؤں کے باشندے درست پوچھتے ہیں کہ جب تعلیم، پینے کا صاف پانی، روزگار، سڑکیں اور صحت کی سہولیات جیسی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے کی بجائے نام تبدیل کرنے کی سیاست کو اس قدر ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟  ایسے اقدامات سے نہ تو دیہی ترقی ہوتی ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے۔ الٹا، اس طرح کی حرکتیں ہندو مسلم بھائی چارے کے تانے بانے کو کمزور کرتی ہیں۔سونی دیوی جیسی سیکڑوں خواتین کا کہنا ہے کہ ’’ہم سب ایک دوسرے کے تہواروں میں شامل ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘‘۔ در اصل یہی آوازیں  ہی سیکولربھارت کی اصل روح ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ آج کے دور میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے نئی ترجیحات طے کرنی ہوں گی۔ جدید تقاضوں میں سرفہرست ہیں: معیاری تعلیم، ہنر مند نوجوان، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، صحت اور معاشی مساوات۔ ناموں کی سیاست کرنا، دیگرتاریخی تنازعات کو ہوا دینا اور فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنا ان ترجیحات کے بالکل برعکس ہے۔ ایسے اقدامات سے ملک کا بھلا نہیں ہو سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان، جرمنی یا سنگاپور نے اپنی ترقی کی منازل تاریخی جھگڑوں کو کریدکر نہیں بلکہ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر مسلسل آگے بڑھتے ہوئے حاصل کی ہیں۔
بھارت جیسا کثیر المذاہب ملک تبھی آگے بڑھ سکتا ہے جب وہ اپنی متنوع طاقت اپنا ہتھیار بنائے۔ایسے میں حکومت اور سیاسی قیادت کو چاہئے کہ وہ گاؤں کی عوامی رائے، تاریخی دستاویزات اور سماجی ہم آہنگی کو مقدم رکھے۔ نام تبدیل کرنے جیسے حساس فیصلے عوامی اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہونے چا ہئیں۔چنانچہ اسلام پور کے باشندوں کی آواز سب کے لئےایک اہم پیغام ہے۔اور وہ پیغام یہ ہے کہ ہم امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ سیاستدانوں کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہئے۔ گنگا جمنی تہذیب ہماری مشترکہ میراث ہے، اس کے ساتھ ذرّہ برابر بھی کھلواڑ نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کرنی ہوگی۔ایسا کرکے ہی ہم ایک ترقی یافتہ، متحد اور خوشحال بھارت کی طرف بڑھ سکیں گے۔
************