تاثیر 02 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار قانون ساز کاؤنسل کی 10 خالی سیٹوں،جن میں ایک ضمنی انتخا ب والی سیٹ بھی شامل ہے، پر انتخابات کا نوٹفکیشن جاری ہوچکا ہے۔ نوٹفیکیشن جاری ہوتےہی ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ نامزدگی کل 2 جون سے شروع ہو چکی ہے، جو 8 جون تک جاری رہے گی، جبکہ اگر ضروری ہوئی تو ووٹنگ 18 جون کو ہوگی۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کے اندر گھماسان جاری ہے۔اس گھماسان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اتحادی سیاست میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔
جے ڈی یو اور بی جے کے سینئر لیڈرس اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں پر غور و فکر میں مصروف ہیں۔ جے ڈی یو نے نتیش کمار کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ کی ہے، جبکہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین آج پٹنہ پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف، این ڈی اے کے چھوٹے اتحادیوں، جیتن رام مانجھی کی’ ایچ اے ایم‘ ، چراغ کی پاسوان کی’ ایل جے پی‘ اور اپیندر کشواہا کی ’آر ایل ایم‘ نے بھی اپنی حصہ داری بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مانجھی نے ایک سیٹ کا واضح دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ مہا دلت طبقے میں ان کی پکڑ کو دیکھتے ہوئے انہیں نمائندگی ملنی چاہئے۔چراغ پاسوان اور اپیندر کشواہا بھی اپنے معاشرتی حلقوں کی بنیاد پر زیادہ سیٹیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ یہ معاملہ محض سیٹوں کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ این ڈی اے کے اندر سیاسی وزن، اثر و رسوخ اور مستقبل کی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی زور آزمائش ہے۔ خاص طور پر جب جے ڈی یو کی پانچ، بی جے پی کی دو اور دیگر کی ایک سیٹ خالی ہوئی ہے تو ایسے میں اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی توقعات این ڈی اے قیادت کے لئے چیلنج بن گئی ہیں۔
بہارکے عوام کے لئے یہ انتخابات اہم ہیں کیونکہ بہار قانون ساز کاؤنسل قانون سازی کا اہم حصہ ہے۔ یہاں منتخب ہونے والے اراکین ریاستی پالیسیوں، ترقیاتی پروگراموں اور عوامی مسائل پر بحث کرتے ہیں۔ بہار جیسی ریاست میں، جہاں تعلیم، صحت، روزگار، زراعت اور بنیادی ڈھانچے اب بھی حکومت کے سامنے بڑے چیلنجز کی مانند ہیں، اس ایوان میں منتخب ہونے والوں کی ذمہ داری بہت بڑی ہو جاتی ہے۔ایسے میں این ڈی اے کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ سیٹوں کی تقسیم محض اتحادیوں کو منانے کا معاملہ نہ بن جائے۔ امیدواروں کے انتخاب میں صلاحیت، ایمانداری، سماجی توازن اور ترقیاتی ویژن کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ جے ڈی یو کا کہنا ہے کہ وہ سماجی اور علاقائی توازن کا خیال رکھ رہی ہے، جو واقعی خوش آئند ہے۔ تاہم، اگر صرف ذات پات کے تئیں وفاداری یا لابنگ کی بنیاد پر فیصلے ہوئے تو اس سے عوام کی مایوسی کم نہیں ہو گی۔دوسری طرف، اتحادیوں کی مطالبات بھی جائز ہیں۔ بہار کی سیاست میں پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت اور مہا دلت طبقات کی نمائندگی اہم ہے۔ اگر مانجھی، پاسوان اور کشواہا جیسے رہنما اپنے طبقات کی آواز کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو این ڈی اے کو ایک متوازن فارمولا نکالنا ہوگا۔ مگر اس میں بھی حد درجہ لالچ اور سیاسی دباؤ عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔چانچہ سیاسی مبصرین کا یہ ماننا صد فیصد درست ہے کہ ابھی این ڈی اے کے لئے سب سے بڑا چیلنج اندرونی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر سیٹوں پر جھگڑا بڑھا تو اس سے عظیم اتحاد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حالانکہ دوسری طرف، جب این ڈی اے کے پاس اسمبلی میں تعدادکی واضح برتری ہے تو ظاہر ہے، اسے دو اضافی سیٹوں کا فائدہ ملنا طے ہے۔
بلا شبہ عوام چاہتے ہیں کہ یہ انتخابات سیاستدانوں کی طاقت کی جنگ نہ بن کر عوامی مسائل کا حل تلاش کرنے کا موقع بنیں۔ بہار میں نوجوانوں کی بے روزگاری، ہجرت، تعلیم کا معیار اور صحت کی سہولیات جیسے مسائل پر ایوان میں سنجیدہ بحث اور پوری قوت ارادی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امیدواروں کو ان مسائل پر واضح موقف رکھنا چاہیے۔نتیش کمار کی قیادت والا این ڈی اے اگر اتحادیوں کے درمیان ذہانت اور بالغ النظری سے فیصلہ کرتا ہے تو نہ صرف اتحاد مزیدمضبوط ہوگا بلکہ عوام میں اس کی ساکھ بھی بڑھے گی۔ الٹا، اگر صرف طاقت کے توازن کی سیاست ہوئی تو یہ ریاست کی ترقی کے لئے قطعی فائدہ مند نہیں ہوگا۔چنانچہ بہار کے عوام کو امید ہے کہ 18 جون کے ممکنہ انتخاب کے نتیجے میں ایک ایسا ایوان وجود میں آئے گا، جو سیاسی تانے بانے سے بالاتر ہو کر ریاست کی خدمت کرنے والا ثابت ہوگا۔ سیاستدانوں کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ووٹ دے کر انھیں ایوان میں بھیجنے والے عوام ہی ہوتے ہیں ، لہٰذا عوام کی بھلائی ہی حقیقی کامیابی کی اصلی کنجی ہے۔
***********

