نوجوانوں کے خواب اور معاشرے کی ذمہ داریاں

تاثیر 15 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی راجدھانی پٹنہ کےپاٹلی پترا ریلوے اسٹیشن پر، بہار اکسائز کانسٹیبل بھرتی امتحان کے امیدواروں کے ہنگامے نے امتحانات اور سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ انتظامی و عوامی ذمہ داریوں کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔گرچہ ریلوے کی جانب سے دس نئی ایگزام اسپیشل ٹرینوں کے اعلان اور 500 سے زائد مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کرکے معاملے کی سنگینی کو کچھ حد تک رفع کرنے کی کوشش کی ہے، مگر یہ واقعہ صرف ایک حادثاتی نتیجہ نہیں بلکہ نظام میں موجود خامیوں کا آئینہ بھی ہے۔
ہزاروں نوجوانوں کا ایک ہی امتحان کے لئے بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہونا کوئی نئی بات نہیںہے۔ بہار جیسی ریاست میں، جہاں بے روزگاری کا درد بے حساب ہے، سرکاری نوکریوں کا امتحان طلبہ کی زندگی کا سب سے بڑا موقع ہوتا ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے امیدوار ٹرینوں میں جگہ نہ ملنے، بھیڑ بھاڑ اور وقت کی پابندی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر انتظامات ناکافی ہوں تو مایوسی اور غصے کابھڑک اٹھنا فطری ہے۔ تاہم، اس مایوسی کو توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور ریلوے پٹری جام کرنے کی شکل دینا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ریلوے عوام کی املاک ہے۔ اس کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے۔ ٹرینوں میں توڑ پھوڑ، عملے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ اور عام مسافروں کو پریشانیوں میں ڈالنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ ریلوے انسپکٹر جنرل جیتندر رانا کے مطابق، کچھ عناصر طلبہ کا روپ دھار کر تشدد میں ملوث ہوئے تھے۔ ان کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت کارروائی ہونا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں دوبارہ اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہو۔ طلبہ کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ان کا احتجاج جائز ہو سکتا ہے، مگر تشدد اور عوامی املاک کی تباہی ان کے اپنے ہی کیریئر اور سماج کے لئے نقصان دہ ہے۔ امن پسند، ذمہ دارانہ اور جمہوری احتجاج ہی طلبہ کی آواز کو طاقت دیتا ہے۔گرچہ اس واقعے میں ریلوے انتظامیہ کا ردعمل قابلِ تعریف ہے۔داناپور ڈویژن نے فوری طور پر 10 اضافی اسپیشل ٹرینوں کا اعلان کیا ہے جو تمام اہم اسٹیشنوں پر رک کر چلیں گی۔ یہ فیصلہ امیدواروں کی سہولت کے لئے اہم ہے۔ تاہم، یہ قدم اگر پیشگی طور پراٹھایا جاتا تو بہتر ہوتا۔ پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی سے عام مسافروں کو بھی غیر ضروری تکلیف نہ ہوتی اور صورتحال اس حد تک بگڑتی بھی نہیں۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایگزامنیشن کنڈکٹ کرنے والے اداروں، ضلع انتظامیہ اور ریلوے کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ امتحان کے مراکز کا تعین کرتے وقت امیدواروں کی تعداد، ان کی سفری سہولت، ریلوے کی گنجائش اور مقامی انتظامات کا مکمل جائزہ لینا چاہئے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والے امتحانات کے لئے’’ٹرین آن ڈیمانڈ‘‘  جیسی سہولت کو پہلے سے ہی فعال کیا جانا چاہئے۔ اگر تینوں ادارے بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتے تو پاٹلی پترا جیسا افسوسناک واقعہ شاید رونما نہ ہوتا۔
حالات خواہ جیسے بھی ہوں، طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کو پرامن رکھیں۔ ریلوے انتظامیہ کو بھی طلبہ کی مشکلات کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہئے اور پیشگی اقدامات کو معمول بنانا چاہئے۔ حکومت اور متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ بھرتی امتحانات کے انعقاد میں شفافیت کے ساتھ ساتھ لاجسٹک سپورٹ کو بھی ترجیح دیں۔ بڑی تعداد میں نوجوانوں کا ایک جگہ جمع ہونا موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر اس موقع کو بہتر منصوبہ بندی سے سنبھال لیا جائے تو نہ صرف طلبہ فائدہ اٹھائیں گے بلکہ عوامی نظام بھی متاثر نہیں ہوگا۔
بہر حال پاٹلی پترا ریلوے اسٹیشن کا واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرانے کے لئے کافی ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ صرف ایک فریق پر نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں پر ہے۔ طلبہ کو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے حقوق مانگنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا، جبکہ انتظامیہ کو طلبہ کی آسانی کو ترجیح دیتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔دھیان رہے،  صرف اسی صورت میں ہم ایک منظم، پرامن اور ترقی پسند معاشرے کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جہاں نوجوانوں کے خوابوں کو جانے یا انجانے توڑنے کے بجائے انھیں شرمندۂ تعبیر کرنے کی راہ کو ہموار کرنے میں معاشرے کا ایک ایک فرد اپنا سر گرم تعاون پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے۔
************