تاثیر 9 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بیجنگ، 9 جولائی: سمندری طوفان میساک کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش اور سیلاب نے جنوبی چین میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ اس تباہی میں اب تک 39 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 9 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ دریں اثنا محکمہ موسمیات نے ایک اور طاقتور سمندری طوفان ‘باوی’ کے تائیوان اور چین کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹوں کے مطابق نیننگ شہر کے نائب میئر ڈنگ وی نے پریس کانفرنس کو بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان ہانگڑو کے علاقے میں ہوا، جہاں شہر میں داخل ہونے والے تیز رفتار پانی کے نتیجے میں ڈیم ک ایک حصہ جزوی طور پر گر گیا، جس سے 26 افراد ہلاک ہو گئے۔
سمندری طوفان میساک کی وجہ سے گوانگسی کے علاقے میں ہفتے کے روز سے بارش کی ریکارڈ سطح ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے کئی آبی ذخائر کو توڑ دیا اور ہزاروں افراد اپنے گھروں اور عمارتوں میں پھنس گئے۔ قومی موسمیاتی مرکز کے مطابق، کچھ علاقوں میں 10 سے 40 سینٹی میٹر (4 سے 16 انچ) بارش ہوئی اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں 90 سینٹی میٹر (35 انچ) سے زیادہ بارش ہوئی۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ڈرون اور تقریبا 5700 کشتیوں کی مدد سے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اب تک 1 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نکالا جا چکا ہے۔
جمعرات کو ہانگڑو کے شمال مشرق میں واقع گیگانگ شہر کے اسکولوں میں پھنسے 10,000 سے زائد طلباء اور اساتذہ کو بچانے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
سیلاب نے جنگلی حیات اور پالتو جانوروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ گیگانگ کے ایک چڑیا گھر سے 100 سے زیادہ جانوروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں زیبرا، سور اور کئی چرند او پرند شامل ہیں۔ ساتھ ہی ہانگڑو کے ایک فارم سے سانپوں کے نکلنے کے امکان کی وجہ سے انتظامیہ نے اینٹی وینم کا اضافی ذخیرہ تیار کر کے لوگوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

