حکومت نے ایتھنول ملاوٹ والے پٹرول کو ’ہندوستان کی توانائی کی حکمت عملی کا کلیدی ستون ‘ قرار دیا، منفی دعووں کی تردید کی

تاثیر 5 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی ، 5 جولائی: مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ایتھنول بلینڈڈ پیٹرول (ای بی پی) پروگرام ہندوستان کی توانائی کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کی پیشرفت سائنسی تشخیص ، مرحلہ وار نفاذ، اور حکومت، صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ اس پروگرام نے توانائی کی حفاظت کو مضبوط کیا ہے ، اخراج کو کم کیا ہے، اور کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس نے خام تیل کی درآمدات کو بھی کم کیا ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ قابل تجدید ایندھن کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔ ای بی پی پروگرام صاف ستھرا، زیادہ لچکدار، اور خود انحصار نقل و حمل کے ایندھن کے ماحولیاتی نظام میں اپنا حصہ ڈالتا رہے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ایتھنول ملاوٹ والے پیٹرول کے حوالے سے مختلف منفی دعوے سوشل میڈیا پر مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ ان دعووں میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایتھنول گاڑیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے ، پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھا رہا ہے، اور یہ کہ پروگرام فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ پریس انفارمیشن بیورو نے تفصیلی تردید جاری کرتے ہوئے صورتحال کو واضح کیا ہے۔ان دعوؤں کی وضاحت اور تردید کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنی خام تیل کی کھپت کا تقریباً 88.5 فیصد درآمد کرتا ہے۔ بیرون ملک سے خریدا جانے والا ہر بیرل تیل ملک کو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں غیر متوقع رکاوٹوں سے دوچار کرتا ہے جس پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ہندوستانی گنے ، مکئی اور چاول سے تیار کردہ ایتھنول گھریلو وسائل کو استعمال کرکے اس خطرے کو کم کرنے کا ایک طریقہ پیش کرتا ہے۔