تاثیر 8 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گجرات کے سورت شہر کے ناصر نگر علاقے کے غریب مسلمان محلے پر 30 مئی سے 2 جون تک جو بُلڈوزر ایکشن کیا گیا تھا، وہ انسانی حقوق کی صریح پامالی کی ایک مثال بن گیا ہے۔ یہ کارروائی نہ صرف ایک انتظامی غلطی بلکہ قانون کی دھجیاں اڑانے کی کھلی سازش کا نتیجہ تھی۔ بغیر کسی پیشگی نوٹس، بغیر کسی قانونی کارروائی اور بغیر متبادل انتظام کے 100 سے زائد کچے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس مجرمانہ عمل نے دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں خاندان کو بے گھر کر دیا۔ بھیانک گرمی میں بچے، خواتین اور بوڑھے کھلے آسمان کے نیچےرہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اور اب توبارشوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
گجرات ہائی کورٹ نے 2 جولائی کو اس کارروائی کو’’پہلی نظر میں غیر قانونی‘‘ قرار دے کر سورت میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کو سخت بھٹکار لگائی تھی۔ جسٹس نِکھِل کاریل نے واضح کیا کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی رہائش کا بندوبست، چاہے پرانی جگہ پر ہو یا مناسب متبادل جگہ پر، میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ڈپٹی کمیشنر آف پولیس کی موجودگی میں اتنی بڑی کارروائی بغیر کسی شکایت کے کیسے ہوئی ؟ دوسری جانب متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ 45 سال سے ناصر نگر میں رہنے والے محمد عرفان کا کہنا ہے کہ ان کی دکان بھی تباہ ہو گئی، بچوں کی تعلیم رک گئی اور خاندان بھوکے پیاسے رہنے لگا۔ شَبنم بانو نے28دن کھلے آسمان تلے گزارے۔ محسن پٹھان کہتے ہیں کہ کمیونٹی ہال میں پناہ تو مل گئی ہے، مگر بچوں کی تعلیم اور روزگار کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ یہ لوگ غریب اور ، محنت کش لوگ قانون کے مطابق برسوں سے رہائش پذیر تھے، مگر ایک رات میں ان کی زندگی اجڑ گئی۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ رہائشی گھروں کو آناََ فاناََ زمین بوس کرنے کی اجازت آخر کس نے دی تھی؟ سورت میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی حکم نہیں دیا تھا، پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ صرف سیکورٹی کے لئے تھی، جبکہ متاثرین الزام لگا رہے ہیں کہ یہ سب ایک پرائیویٹ بلڈر کو فائدہ پہنچانے کے لئے’’روڈ اوپننگ‘‘ کے نام پر کیا گیا ہے۔ اگر اتنی بڑی کارروائی، جس میں درجنوں بُلڈوزر، بھاری پولیس فورس اور سرکاری مشینری استعمال ہوئی، بغیر کسی آفیشل آرڈر کے انجام پذیر ہوئی تو یہ انتظامی بے ترتیبی نہیں بلکہ منصوبہ بند سازش اور کھلی بدنیتی کا ثبوت ہے۔
گجرات ہائی کورٹ نے بھی یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر یہ ایک بارکا واقعہ نہیں ہےتو پھر اس طرح کی اور کتنی زیادتیاں پس پردہ رہ جاتی ہیں ؟ عدالت نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا وہ اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھنے کی ذمہ دار نہیں ہے؟ گرچہ اس معاملے میں سر دست پانچ افسران کو معطل کیا گیا ہے، مگر یہ ناکافی ہے۔ جواب دہی کا تعین ضروری ہے۔ ذمہ دار افسران، پولیس حکام اوراس گناہ کی جن لوگوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر سر پرستی کی تھی، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ قانون کے مطابق گھر توڑنا دہشت گردی کے مترادف ہے۔ متاثرین کو مناسب معاوضہ، مستقل رہائش اور نقصان کی تلافی ملنی چاہئے۔
یہ واقعہ کوئی واحد معاملہ نہیں ہے۔ملک کے کئی حصوں میں مسلم آبادی والے غریب علاقوں کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔’’بُلڈوزر جہاد‘‘ جیسے نعروں کے تحت قانون اور انصاف کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے نظامِ انصاف اور آئینی اقدار کےلئے خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان ہونا ہی جرم ہو گیا ہے تو پھر سیکولر جمہوریت کا دعویٰ آخر حق بجانب کیسے ہے ؟
خوش آئند بات یہ ہے کہ متاثرین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت نے ان کی باتیں سنیں اور ان کے درد کو محسوس کیا ساتھ انصاف کی طرف بڑھتے ہوئے بلا تاخیر پہلا قدم اٹھایا۔ اس اہم کیس کی اگلی سماعت آج 9 جولائی کو ہونے والی ہے۔آج کی سماعت میں سورت کے میونسپل کمشنر کا حلف نامہ اور حکومت کا موقف سامنے آئے گا۔ ملک کے امن پسند شہریوں کو یقین ہے کہ عدالت نہ صرف پُرامن حل نکالے گی بلکہ ذمہ داروں کو سزا دلانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
ناصر نگر سانحہ کا تقاضہ ہےکہ قانون کی حکمرانی سب کے لئے برابر ہونی چاہیے۔ غریب مسلمان خاندانوں کی آواز کو دبانے کی بجائے انہیں انصاف دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس بار بھی ذمہ داران بچ نکلے تو یہ نہ صرف ان متاثرین بلکہ پورے ملک کے کمزور طبقات کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ، حکومت اور عدلیہ مل کر اس اندھیر گردی کو ختم کریں اور متاثرین کو ان کا حق واپس دلائیں۔
*****

