مانسون کی مہربانی ، شہری علاقوں میں پریشانی

تاثیر 9 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ملک کے کچھ حصوں میں مانسون پوری شدت کے ساتھ حاضر ہے۔ کل جمعرات( 9 جولائی) کو دہلی این سی آر سمیت شمالی اور مشرقی بھارت میں تیز بارشوں نے نہ صرف لوگوں کو شدید گرمی اوراومس سے راحت بخشی بلکہ شہری زندگی کو بری طرح سے متاثر بھی کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں دہلی این سی آر کے کئی علاقوں میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ ظاہر ہے، اس سےنچلے علاقوں میں شدید جل بھراؤ، ٹریفک جام اور روزمرہ زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔
دہلی این سی آر میں صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہو گئی ہے۔ ٹکمیرپور اورکھجوری میں 160 ملی میٹر، غازی آباد کے کملا نہرو نگر میں 164 ملی میٹر اور ہنڈن میں کل 134 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی۔ میور ویہار (103 ملی میٹر)، لودھی روڈ (80 ملی میٹر)،  صفدر جنگ (73 ملی میٹر) اور دیگر علاقوں میں بھی زبردست بارش ہوئی ہے۔ نتیجتاً وکاس مارگ، منیرکا، دوارکا،صدر بازار، مشرقی دہلی، دہلی نوئیڈا ایکسپریس وے اورغازی آباد کے اندراپورم جیسے علاقوں میں سڑکیں تالاب بن گئی ہیں۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر جل بھراؤ کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے دہلی کے لئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں مزید تیز بارش، گرج ،چمک اور آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔
اس بارش نے لوگوں کو گرمی سے راحت تودی ہے مگر اس کے ساتھ ہی شہری انفراسٹرکچر کی ناکامی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دہلی جیسا میٹروپولیٹن شہر، جہاں  بارشوں کے پانی کے اخراج کا بہتر انتظام ہونا چاہئے، اب بھی نکاسی کے پرانے نظام اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بیشتر حصے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشی نقصان ہوتا ہے بلکہ صحت کے مسائل، پانی کی آلودگی اور روزگار متاثر ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
بہار میںمانسون مکمل طور پر فعال ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 10 دنوں تک پوری ریاست میں وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ بادل چھائے رہیں گے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 سے 33 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر بجلی گرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے پیش نظر عوام کو خصوصی طور پر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بہار کے دیہی علاقوں میں یہ بارشیں کسانوں کے لئے خوش آئند ہیں، مگر شہری مراکز میں پانی کے اخراج کی عدم موجودگی سے جل بھراؤ کا اندیشہ لاحق ہے۔جھارکھنڈ میں بھی مانسون کی سرگرمی جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے ریاست بھر میں اوسط سے بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ پہاڑی اور معدنی علاقوں میں تیز بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ دونوں ریاستوں میں زرعی معیشت بارشوں پر انحصار کرتی ہے، اس لئے اوسط بارش برکت ہے، مگر مسلسل تیز بارش فصلوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
مانسون کی یہ لہر صرف دہلی، بہار اور جھارکھنڈ تک محدود نہیں ہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، راجستھان، مغربی بنگال، اوڈیشہ، مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، کیرالہ اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی زوردار بارش متوقع ہے۔ کیرالہ میں تین اضلاع کے لئے’’ اورنج الرٹ‘‘  جاری کیا گیا ہے۔ ممبئی اور کونکن علاقے میں بھی بارش ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال خوش آئند بھی ہے اور چیلنجنگ بھی۔ ایک طرف تو زرعی پیداوار بڑھنے، آبی ذخائر بھرنے اور گرمی سے نجات ملنے سے اطمینان ہے، تودوسری طرف شہری انتظام، دیہی انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ایسے میں انتظامیہ کو ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھنا چاہئے، پانی کے اخراج کے نظام کو بہتر بنانا چاہئے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دینی چاہئے۔
بلا شبہ مانسون اللہ کی رحمت ہے، مگر اس کا درست استعمال اور نقصان سے بچاؤ انسانی تدابیر پر منحصر ہے۔ دہلی این سی آر، بہار اور جھارکھنڈ سمیت پورے ملک کو اس موسم سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے ساتھ ہی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے پر عزم رہنا چاہئے۔ شہری منصوبہ بندی، جنگلات کے تحفظ اور مؤثر الرٹ سسٹم ہی مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے بہترین ذرائع ہیں۔ عوام بھی محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری پر عمل کریں اور احتیاط برتیں۔ امید ہے کہ یہ بارشیں ملک کی زرعی معیشت کو تقویت دیں گی اور نقصانات کم سے کم ہوں گے۔