تاثیر 17 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اتر پردیش کے رامپور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ ایک بار پھر گرم ہو گیا ہے۔ رامپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو بغیر منظور شدہ نقشہ کے بننے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دے کر ان کے انہدام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فائر ڈپارٹمنٹ نے بھی 22 عمارتوں میں فائر سیفٹی کا معیار ی انتظا م نہیں ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کو عام راستہ قرار دے کر وہاں بورڈ لگا دیے ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں ایک ساتھ اس وقت سامنے آئی ہیں، جب یونیورسیٹی میںنئے داخلہ کا سیزن قریب ہے۔ اس پورے معاملے کا باریکی سے جائزہ لینے پر یہی واضح ہوتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے قد آور رہنما اعظم خان، ان کی فیملی اور ان کے دیرینہ خوابوں کی تعبیر’’ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی‘‘ کے خلاف یہ تمام کارروائیاں سیاسی بغض و عنادپر مبنی ہیں۔
آر ڈی اے کے مطابق، 2006 میں قائم اس یونیورسٹی کی 38 بڑی بڑی عمارتیں بغیر نقشہ کے بنائی گئی ہیں۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ تعمیر کے وقت یہ علاقہ آر ڈی اے کے دائرہ کار میں نہیں تھا اور اس وقت کی صورتحال کے مطابق متعلقہ اتھاریٹی یعنی ضلع پنچایت سے منظوری حاصل کی گئی تھی، جس کے کاغذات موجود ہیں۔ اب آر ڈی اے نے اپنے فیصلے میں 15 دنوں کی مہلت دی ہے، لیکن اس دوران کیمپس میں بڑی تعداد میں پولس اہلکاروں کی موجودگی اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ یونیورسیٹی کی عمارتوں کو زمیں بوس کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ایسے میں اس سوال کا اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ طلبہ اور والدین میں خوف پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش نہیں ہے تاکہ داخلے متاثر ہوں؟
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے موقف کے حق میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ملے اسٹے آرڈر کی، آر ڈی اے صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔ سڑک کے تنازع سے متعلق کیس اب بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ ایک طرفہ کارروائی کر رہی ہے۔اور اپنے ہی آرڈر میں 15 دنوں کا وقت دینے کے باوجود یونیورسیٹی کیمپس کو پولیس اہلکاروں سے بھر دیا تھا، جس کی خبر ملتے ہی اعظم خان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ بذات خود وہاں پہنچیں اور پولیس اہلکاروں کو پھٹکارتے ہوئے کیمپس سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور کہا کہ ہمارے پاس کورٹ آرڈر ہے۔سماجوادی پارٹی کے علاوہ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی کا کہنا ہے کہ اگر نقشہ نہ پاس ہونے پر بُلڈوزر چلانا ہے تو پھر پورے ملک کی یونیورسٹیوں اور ڈی ایم آفسز کی عمارتوں کوبھی گرادینا چاہئے۔ انہوں نے آر ڈی اے کے فیصلے کو تعلیم دشمنی اور آمرانہ رویہ پر مبنی قرار دیاہے۔اِدھر یونیورسٹی انتظامیہ ہائی کورٹ اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ تک جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
ظاہر ہےیہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے۔ یہ بھارت کے سیکولرمزاج اور تعلیمی ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے۔ مولانا محمد علی جوہر جیسےعظیم مجاہد آزادی کے نام پر قائم یہ ادارہ ملک کے نوجوانوں کو کم سے کم خرچ پر جدید معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ مگرجب بھی داخلے کا وقت آتا ہے، ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ طلبہ ڈر جائیں۔ چنانچہ اب آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ اگر ملک کا قانون اگرسب کے لئے برابر ہے تو یوپی کے وزیر اعلیٰ اور بابا گورکھ ناتھ مندر کے مہنت یوگی آدتیہ نا تھ کو مندر کے ساتھ ساتھ بی جے پی اور آر ایس ایس لیڈروں کی بڑی بڑی عمارتوں کے نقشے کو بھی اکٹھا کر لیناچاہئے۔بہت جلد ان کی بھی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جوہر یونیورسٹی 250 ایکڑ پر پھیلا ایک بہترین تعلیمی مرکز ہے۔ اس میں تقریباََ تین ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس میں انجینئرنگ، میڈیکل، لا، فارمیسی، ایگریکلچر سمیت متعدد کورسز چلتے ہیں۔مگر اس پر لگاتار ای ڈی، انکم ٹیکس اور اب آر ڈی اے کی کارروائیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایک مخالف آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چنانچہ اس وقت ضرورت ہے کہ تمام جماعتیں، سول سوسائٹی اور تعلیم دوست حلقے متحد ہو کر اس کے خلاف پر زورآواز اٹھائیں۔ عدالتوں کو بھی اس معاملے میں جلد از جلد انصاف فراہم کرنا چاہیے تاکہ تعلیم کا قتل عام نہ ہو۔مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی ہے۔ اسے بچانا صرف ایک ادارے کو نہیں، بلکہ ایک بڑے تعلیمی مرکز کے ساتھ ساتھ ملک کے سیکولر اقدار کو بھی بچاناہے۔
**************

