نریندر مودی طلبہ کو انصاف دیں: ڈاکٹر مکیش روشن

تاثیر 23 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

جنتر منتر اور پٹنہ لاٹھی چارج کے خلاف حاجی پور میں آر جے ڈی کا احتجاجی مارچ، مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا پتلا نذر آتش.
حاجی پور/ ویشالی (شرافت خان) : دہلی کے جنتر منتر اور پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوراہے پر طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج کے خلاف جمعرات کی شام راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے حاجی پور میں زبردست احتجاجی مارچ نکالا۔ رام آشیش چوک سے اسٹیشن چوک تک نکالے گئے اس مارچ میں پارٹی کارکنان، طلبہ و طالبات اور بڑی تعداد میں حامی شریک ہوئے۔ اس دوران مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا پتلا نذر آتش کیا گیا اور طلبہ کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ احتجاج کے پیش نظر حاجی پور ریلوے اسٹیشن اور اس کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری دستے تعینات رہی اور پولیس کی موجودگی میں پروگرام پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ احتجاجی مارچ کی قیادت مہوا کے سابق رکن اسمبلی اور آر جے ڈی رہنما ڈاکٹر مکیش روشن نے کی۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر طلبہ کے ساتھ کی گئی کارروائی جمہوری اقدار کے منافی ہے اور آر جے ڈی طلبہ کو انصاف دلانے کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
ڈاکٹر روشن نے الزام عائد کیا کہ NEET، BPSC، SSC اور UPSC سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں سوالیہ پرچے لیک ہونے کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں، مگر ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی اور مہاگٹھ بندھن طلبہ کی تحریک کے ساتھ ہیں اور انہیں انصاف دلانے کے لیے سڑک سے لے کر ایوان تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر مکیش روشن نے مزید الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران طلبہ اور خواتین پر طاقت کا استعمال کیا گیا، جو جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے، لہٰذا حکومت کو سخت کارروائی کے بجائے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے پٹنہ میں طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور گرفتار طلبہ کو 24 گھنٹوں کے اندر رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس موقع پر بیدناتھ چندرونشی، ناگیندر رائے، راجیش شرما، سنیل یادو، سنتوش چودھری، چندن چودھری، ابھیئے رائے، سرفراز اعجاز، توسيف راجہ، سریتا رائے، ہری شنکر یادو، پنکج یادو، مہیش سہنی، راکیش کمار، سبھاش رائے، سنجیو یادو، انیل رائے، منوج یادو، منٹو کمار، گورو کمار، چِتّو رائے، گڈو یادو، روشن کمار، محمد امجد، گنجن کمار، سروج رائے، راجیو کمار سمیت سیکڑوں طلبہ اور پارٹی کارکنان موجود تھے۔