تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ورنگ آباد، 16 جولائی : عثمان آباد ضلع کے کسانوں، عام شہریوں اور طلبہ کو بجلی کی فراہمی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مہاوترن کے من مانی طرزِ عمل کے خلاف شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی جانب سے مہاوترن دفتر کے سامنے چکہ جام احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت اور مہاوترن پر کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عثمان آباد ضلع میں بڑے پیمانے پر بجلی پیدا ہونے کے باوجود اسی ضلع کے کسانوں کو دن کے وقت مسلسل، بلا تعطل اور مناسب وولٹیج کے ساتھ بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جو حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت “توانائی سے مالا مال مہاراشٹر” کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف کسانوں کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ زراعت مکمل طور پر بجلی پر منحصر ہے، لیکن مہاوترن کی لاپرواہی کے باعث کم وولٹیج کی وجہ سے کسانوں کے کھیتوں میں نصب برقی موٹریں چل نہیں پاتیں، ٹرانسفارمر بار بار جل رہے ہیں، فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے اور کسان شدید مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔احتجاج کرنے والوں نے ضلع میں بار بار کی جانے والی ایمرجنسی لوڈشیڈنگ پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باعث دیہی علاقوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، طلبہ کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خواتین کو گھریلو امور انجام دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔شیو سینا رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت ایک طرف یہ کہتی ہے کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب لازمی نہیں، لیکن دوسری طرف مہاوترن شہریوں کی رضامندی کے بغیر اسمارٹ میٹر نصب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد صارفین کی

