گیان واپی مسجد معاملہ پر سپریم کورٹ کی ثالثی کی کوششیں بے نتیجہ ، دونوں فریقوں کا سمجھوتے سے انکار

تاثیر 14 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

وارانسی، 14 جولائی: اتر پردیش کے وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد تنازعہ کے حل کے لیے سپریم کورٹ کی پہل پر منگل کو منعقد کی گئی ثالثی کارروائی (پری سیٹلمنٹ مذاکرات) کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ ضلع و سیشن عدالت کے احاطے میں واقع ثالثی مرکز میں ہوئی میٹنگ میں مدعی ہندو فریق اور مدعا علیہ مسلم فریق نے ثالثی کے ذریعے تنازعہ حل کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے دعووں پر قائم رہے۔ اب رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیجی جائے گی، جس کی بنیاد پر آئندہ عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ثالثی مرکز میں گیان واپی سے متعلق مختلف مقدمات کے فریقین اور ان کے وکلا کو مدعو کیا گیا تھا۔ چار مقدمات سے متعلق فریقین میٹنگ میں پہنچے، لیکن کسی نے بھی مفاہمت یا سمجھوتے کے عمل کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد تنازعہ کے حل کے لیے سب کی نظریں اب سپریم کورٹ کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔
مدعی ہندو فریق کے سینئر وکیل سبھاش نندن چترویدی نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ بات چیت کے ذریعے حل نکالنا آسان نہیں ہوگا۔ مذہبی اور قانونی پہلوؤں سے جڑے اس تنازعہ میں دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا۔ اب ثالثی کی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیجی جائے گی اور اسی کی بنیاد پر آئندہ عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ثالثی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو اس کے بعد فیصلہ کرنا مکمل طور پر سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔ عدالت رپورٹ کا جائزہ لے کر آئندہ سماعت اور ضروری احکامات طے کرے گی۔