تاثیر 22 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
حاجی پور/ ویشالی (شرافت خان) : ضلع مجسٹریٹ ویشالی ورشا سنگھ (آئی اے ایس) کی صدارت میں بدھ کے روز جی اے انٹر کالج، حاجی پور میں سائبر بیداری پروگرام منعقد ہوا۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شوبھانک مشرا (آئی پی ایس)، ضلع انتظامیہ، محکمۂ پولیس اور محکمۂ تعلیم کے افسران بھی موجود تھے۔ پروگرام کا مقصد طلبہ و طالبات کو سائبر جرائم، آن لائن دھوکہ دہی، سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویّے کے بارے میں بیدار کرنا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، اس لیے ٹیکنالوجی کا محفوظ، ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ استعمال نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ آن لائن گیمنگ، غیر ضروری سوشل میڈیا سرگرمیوں اور جھوٹے لالچ سے دور رہتے ہوئے اپنی تعلیم، شخصیت سازی اور روشن مستقبل پر پوری توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ سائبر مجرم اکثر لوگوں کا اعتماد حاصل کر کے ان کی ذاتی معلومات، بینکنگ تفصیلات، تصاویر اور دیگر خفیہ معلومات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے کسی نامعلوم شخص سے سوشل میڈیا پر دوستی کرنے، ذاتی معلومات شیئر کرنے یا مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی بھی قسم کی سائبر دھوکہ دہی کا سامنا ہو تو اسے چھپانے کے بجائے فوراً والدین، اساتذہ اور پولیس کو اطلاع دی جائے۔
ضلع مجسٹریٹ نے قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 اور نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ بروقت شکایت درج کرانے سے فوری کارروائی ممکن ہوتی ہے اور مالی نقصان کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آن لائن گیمنگ کی بڑھتی ہوئی لت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا وقت اور صلاحیت مسابقتی امتحانات، ہنر مندی اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں اور اپنے اہلِ خانہ و معاشرے کو بھی سائبر تحفظ کے بارے میں بیدار کریں۔ اس موقع پر ایس پی شوبھانک مشرا نے فرضی سرمایہ کاری اسکیموں، اسکرین شیئرنگ ایپس، جعلی کسٹمر کیئر نمبروں، او ٹی پی فراڈ، یو پی آئی دھوکہ دہی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے فراڈ کے مختلف طریقوں سے طلبہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ او ٹی پی، بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم یا یو پی آئی پن جیسی خفیہ معلومات کسی بھی صورت میں کسی کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں اور صرف مستند ویب سائٹس اور موبائل ایپس ہی استعمال کی جائیں۔ پروگرام کے دوران طلبہ نے سائبر سکیورٹی سے متعلق متعدد سوالات کیے، جن کے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے تفصیلی جوابات دیے۔ آخر میں دونوں افسران نے طلبہ سے خود بیدار رہنے اور اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور معاشرے کو بھی سائبر جرائم سے تحفظ کے لیے بیدار کرنے کی اپیل کی۔

