جے این ایم سی میں منیملی اِنویزیو کارڈیک سرجری پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

تاثیر 9 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

علی گڑھ، 9 جولائی: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کارڈیوتھوریسک سرجری نے میرل لائف سائنسز کے اشتراک سے منیملی اِنویزیوکارڈیک سرجری (ایم آئی سی ایس) پر دو روزہ لائیو ورکشاپ منعقد کی جس میں درگاپور، کولکاتا اور پٹنہ سے آئے ہوئے کارڈیوتھوریسک سرجنس اور ان کی سرجیکل ٹیموں نے جدید منیملی اِنویزیو کارڈیک تکنیکوں کی عملی تربیت حاصل کی۔
فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے اس موقع پر کہا کہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج جدید ترین سرجری تکنیکوں کو اپناتے ہوئے قلبی نگہداشت کو فروغ دینے کے تئیں پُرعزم ہے۔
میڈیکل کالج کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر انجم پرویز نے بھی شعبہ کارڈیوتھوریسک سرجری کو کامیاب ورکشاپ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے ایک اہم علمی اقدام قرار دیا، جو جدید قلبی سرجری، کلینیکل تربیت اور مریض پر مرکوز طبی خدمات کے میدان میں جے این ایم سی کی امتیازی حیثیت کو مزید مستحکم ہے۔
شعبہ کارڈیوتھوریسک سرجری کے چیئرپرسن اور پروگرام کے آرگنائزنگ چیئرپرسن ڈاکٹر محمد اعظم حسین نے بتایا کہ ورکشاپ کے دوران 4 مریضوں کی پیچیدہ قلبی سرجری منیملی اِنویزیو طریقہ سے کامیابی کے ساتھ انجام دی گئیں۔ لائیو سرجری کے ذریعے شرکاء کو مریضوں کے انتخاب، آپریشن کی منصوبہ بندی، سرجری تکنیکوں اور آپریشن سے قبل و بعد کی طبی نگہداشت کا عملی مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
اس تکنیک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر حسین نے کہا کہ منیملی اِنویزیو کارڈیک سرجری کے ذریعے روایتی میڈین اسٹرنوٹومی کے بجائے جسم پر چھوٹے چیرے کے ذریعے دل کی پیچیدہ سرجری انجام دی جا سکتی ہیں، جس سے مریض کو متعدد اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس طریقہ علاج کے فوائد عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، تاہم یہ ایک نہایت مخصوص شعبہ ہے، جس کے لیے اعلیٰ مہارت درکار ہوتی ہے، اور ہندوستان میں صرف محدود تعداد میں کارڈیوتھوریسک سرجن اس تکنیک کو استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف مریضوں کو عالمی معیار کی قلبی نگہداشت فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ کارڈیوتھوریسک سرجنوں کو ان جدید تکنیکوں کی تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کرنا ہے۔
ایم آئی سی ایس مستقبل کی قلبی جراحی ہے، اور اس نوعیت کی ورکشاپ نظریاتی معلومات اور عملی مہارت کے درمیان خلا کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ورکشاپ کے آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر سید شمائل ربانی نے بتایا کہ پروگرام میں لائیو آپریٹیو مظاہروں اور تفصیلی علمی مباحثے کا اہتمام کیا گیا، جس سے مندوبین کو منیملی اِنویزیو قلبی سرجری میں استعمال ہونے والی تکنیکی باریکیوں اور کلینیکل فیصلہ سازی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔سرجری کے دوران اینستھیسیا کی خدمات ڈاکٹر دیپتی چنّا اور ڈاکٹر کلثوم عالم نے انجام دیں، جبکہ ڈاکٹر صابر علی خان اور مسٹر ارشاد قریشی نے پرفیوژنسٹ کے فرائض انجام دئے۔
آپریشن تھیٹر کی ٹیم میں سلمان، اسلم اور کامران اور آپریشن کے بعد مریضوں کی نگہداشت کرنے والی ٹیم میں سہیل، ندیم، رنکو، کیلاش، عمران، رینو اور عامر شامل تھے۔