یوکرین میں جنگ کے خاتمہ کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر سرگرم

تاثیر 3 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،03جولائی:ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ یہ بات کیف پر روس کے وسیع حملے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی عہدیدار نے فرانس پریس ایجنسی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں اور وہ اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ بے مقصد قتل و غارت رک سکے۔ جمعرات کی علی الصبح یوکرینی دارالحکومت کو نشانہ بنانے والے روسی حملوں پر یہ امریکی انتظامیہ کا پہلا تبصرہ ہے۔یہ بیان دارالحکومت کے میئر ویٹالی کلیٹشکو کے مطابق فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس کی جانب سے کیف پر کیے گئے سب سے بڑے فضائی حملے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ اس حملے میں ماسکو نے سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل داغے جس سے رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام نے کم از کم 21 افراد کی ہلاکت اور 85 دیگر کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ریڈ کراس کا ایک گودام جس میں لاکھوں انسانی امدادی اشیاء موجود تھیں، تباہ ہو گیا اور ایک پبلشنگ ہاؤس کا گودام بھی آگ کی لپیٹ میں آ گیا جس میں تقریباً 8 لاکھ کتابیں موجود تھیں۔ حملے کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ان حملوں کا یقینی طور پر جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ یوکرینیوں کے عزم کو توڑا جا سکے۔ زیلنسکی نے انقرہ میں ہونے والے نیٹوصدر اجلاس کے دوران فضائی دفاع کے شعبے میں اضافی مدد حاصل کرنے کی امید بھی ظاہر کی۔ یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی کہ میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اس سربراہی اجلاس کے اہم ترین نتائج میں شامل ہونا چاہیے۔