تاثیر 07 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کل بروز جمعہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اطمینان بخش فیصلہ سنایا تھا۔یہ فیصلہ’ ’اتر پردیش کیٹل پروٹکشن ایکٹ‘ ‘کے تحت گاڑیوں کی غیر قانونی ضبطی اور نیلامی سے متعلق ہے۔اس فیصلے کو، انتظامیہ کے ذریعہ غیر قانونی پریکٹس کے خلاف ایک اہم عدالتی مداخلت مانا جا رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے اندر گائے کے نقل و حمل کے لئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ گاڑی میں گائیں لے جائی جا رہی تھیں، یہ نہیں مانا جا سکتا کہ انہیں ذبح کے لئے ہی لے جایا جا رہا تھا۔معاملے کی سماعت کے دوران ریاست یہ ثابت نہیں کر سکی کہ مویشیوں کو صوبے سے باہر ذبح کے مقصد سے ہی منتقل کیا جا رہا تھا۔ ایسی صورت میں کورٹ نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ ضبطی اور بعد میں نیلامی مکمل طور پر غیر قانونی اور من مانی تھی۔ صرف شک اور اندیشے کی بنیاد پر اس طرح کی کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے گاڑی مالک کو ضبطی کی تاریخ سے رہائی تک ماہانہ بیس ہزار روپے کے حساب سے معاوضہ اور ذہنی اذیت کے لئے اضافی پچیس ہزار روپے ، جو تقریباً 4.75 لاکھ روپے بنتا ہے، دینے کا حکم دیاہے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو محض ایک کیس تک محدود نہیں رکھا جا سکتا ہے ۔ یہ انتظامیہ کی اُس روِش کی بھی نشاندہی کرتا ہے، جس میںگائےتحفظ کے نام پر عموماََ قانون کو پس پشت ڈال کر کارروائی کی جاتی ہے۔ تاہم مسئلہ صرف سرکاری افسران کی من مانی تک محدود نہیں ہے۔ ملک بھر میں گایوں کے نقل و حمل کے دوران ایک زیادہ خطرناک رجحان مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ غیر اختیار یافتہ ’’گؤ رکشا دل‘‘ کے بھگوا دھاری افراد محض شک کی بنیاد پر تاجروں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بری طرح سے مارا پیٹا جاتا ہے،ان کی گاڑیاں جلا دی جاتی ہیں اور بعض اوقات معاملہ ماب لنچنگ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے گروہ میں نہ تو کوئی پولیس اہلکار ہوتا ہے اور نہ کوئی افسر ۔ پھر بھی وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور معصوم تاجروں، اکثر غریب اور اقلیتی پس منظر کے حامل افراد، کو نشانہ بناتے ہیں۔
’’اتر پردیش کیٹل پروٹکشن ایکٹ ‘‘ریاست میں موجود ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ضرورقانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ مگر قانون کا نفاذ صرف مجاز حکام کے ذریعے اور ثبوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ جب خود ساختہ گروہ سڑکوں پر گشت کرتے ہوئےمویشی لے جانے والی ہر ایک گاڑی کو مشکوک قرار دے دیں، تو یہ نہ صرف آئین کے تحت دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بعض اوقات یہ رویہ سماجی امن کے لئے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ متعدد واقعات میں دیکھا گیا کہ حملہ آوروں نے نہ کوئی دستاویز دیکھی، نہ تحقیق کی اور نہ پولیس کو مطلع کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تاجروں کو شدید جسمانی نقصان اٹھانا پڑا، کاروبار تباہ ہو گئے اور خاندانوں پر معاشی بوجھ پڑ گیا۔
عدالت کا یہ فیصلہ مویشی کےکاروباریوں کے لئے راحت بخش تو ہے ہی ، یہ ریاست کی انتظامیہ کو واضح ہدایت بھی دیتا ہے۔ ہدایت یہ کہ ثبوت کے بغیر کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگر سرکاری افسران ہی محض شک کی بنیاد پر گاڑیاں ضبط کر کے نیلام کر نے لگیں گے تو خود ساختہ ’’گؤ رکشا دلوں‘‘ کی غنڈہ گردی اور بڑھ سکتی ہے۔بلا شبہ یہ دونوں رجحانات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست قانون کی پاسداری میں خود کوتاہی برتنے لگتی ہے تو ظاہر ہے سڑک چھاپ افراد بھی قانون اپنے ہاتھوں میں لینے لگتے ہیں۔ نتیجتاً دیہی علاقوں اور شاہراہوں پر ایک خوف کی فضا پیدا ہو جاتی ہے، جہاں مویشیوں کا جائز کاروبار بھی خطرناک بن جاتا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کو اب دو سطح پرا قدام کرنے ہوں گے۔ پہلا، سرکاری افسران کو واضح ہدایات دی جائیں کہ کارروائی کے لئے صرف شک کافی نہیں ہے۔ ثبوت، قانونی کارروائی اور عدالتی نگرانی لازمی ہے۔ دوسرا، غیر اختیار یافتہ گؤ رکشا دلوں کی سرگرمیوں پر سخت نگرانی اور ان کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ جو لوگ تشدد اور لنچنگ کا ارتکاب کرتے ہیں، انہیں بلا تاخیر قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔اس کے بغیر عدالتی فیصلے صرف کاغذی رہ جائیں گے۔
گائے کا تحفظ ایک حساس مذہبی اور ثقافتی معاملہ ہو سکتا ہے، مگر اس کے نام پر قانون کی دھجیاں اڑانا اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنا کر قانون کی بالادستی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اس اشارے کو عملی شکل دے اور سڑکوں پر برسوں سے چھائی ہوئی خوف و دہشت کی فضا کوجلد از جلد ختم کرے۔
***********

