بی جے پی کے ترجمان آر پی سنگھ کا کانگریس پر حملہ

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 21 اگست:بی جے پی کے قومی ترجمان آر پی سنگھ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کو لے کر کانگریس پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کرکے کانگریس رہنماوں کی جانب سے سجن کمار کو مبینہ طورپر’’رول ماڈل‘‘ اور’’ناقابلِ تلافی نقصان‘‘ قرار دیے جانے پر سوالات اٹھائے۔آرپی سنگھ نے کہا کہ سجن کمار 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے شخص کی مدح سرائی و ستائش کانگریس کی 1984 کے واقعات سے متعلق سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مجرموں کا احترام کیا جائے اور متاثرین کو فراموش کر دیا جائے، تو اس سے کانگریس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے اپنے بیان میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے اس متنازعہ بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’جب بڑا درخت گرتا ہے، تو زمین تھوڑی سی ہلتی ہے۔‘‘ آر پی سنگھ نے کہا کہ 1984 میں دہلی میں ہلاک ہونے والے تقریباً 3,000 سکھوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے یہ محض ’’زمین کا تھوڑا ہلنا‘‘ نہیں تھا، بلکہ ان کی پوری زندگی کو برباد کر دینے والا المیہ تھا۔ آر پی سنگھ نے کہا کہ 1984 کے فسادات میں اپنے بیٹے، شوہر، باپ اور بھائیوں کو کھونے والے خاندان اس درد کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی خراج عقیدت کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کے درد اور اس سانحے کی یادوں کو مٹایا نہیں جا سکتا۔