تاثیر 20 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ،(فضاامام):مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے سابق طلبہ (ایلومنائی) نے مانو کالج آف ٹیچر ایجوکیشن (CTE)، دربھنگہ میں ایک پروقار استقبالیہ اور تہنیتی تقریب کا انعقاد کیا۔اس تقریب کا مقصد پروفیسر محمد مشاہد کو مانو، حیدرآباد کے اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ڈین کے عہدے پر فائز ہونے اور چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرنا تھا۔ بطور ڈین چارج سنبھالنے کے بعد پروفیسر محمد مشاہد کا مانو دربھنگہ کیمپس کا یہ پہلا آ فیشیل دورہ تھا۔ اس تقریب میں مانو کے سابق طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور پروفیسر مشاہد کو ان کی نئی تعلیمی و انتظامی ذمہ داری پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ اس پرمسرت موقع پر ایلومنائی نے احترام اور عقیدت کے طور پر پروفیسر محمد مشاہد کی گلپوشی کی اور انہیں ایک یادگاری نشان (مومنٹو) پیش کیا۔ اس اجتماع نے سابق طلبہ کو ڈین کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے اور تعلیم اساتذہ (ٹیچر ایجوکیشن)، تعلیمی ترقی، طلبہ کی فلاح و بہبود اور مانو کے تعلیمی ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم بنانے سے متعلق مختلف اہم امور پر گفتگو کرنے کا ایک بہترین موقع بھی فراہم کیا۔ اس استقبالیہ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں ایلومنائی کوارڈی نیٹر ڈاکٹر افروز عالم، ڈاکٹر دانش ندیم، جناب سونو رجک، جناب سید کہف الوریٰ، ڈاکٹر راغب بابر، ڈاکٹر اختر رضا، عالیشان فاطمہ، ارزان فاطمہ، شگفتہ پروین اور مانو کے کئی دیگر سابق طلبہ شامل تھے۔ ایلومنائی نے اپنے تجربات شیئر کیے اور عصری تعلیمی چیلنجوں نیز اپنے مادرعلمی کی ترقی و ترویج میں سابق طلبہ کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سی ٹی ای دربھنگہ کی ایلومنائی کمیٹی کے اراکین، جن میں ڈاکٹر فخرالدین علی احمد، ڈاکٹر مظفر اسلام، جناب چاند انصاری، ڈاکٹر موصوف رضا اور جناب شارب علی نے بھی پروفیسر محمد مشاہد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ڈین کی حیثیت سے ان کی کامیاب مدت کار کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سابق طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے، پروفیسر محمد مشاہد نے ان کے اس پرخلوص جذبے اور فعال شرکت کی بھرپور ستائش کی۔ انہوں نے ایلومنائی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں لگن، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کرتے رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ادارے کے سابق طلبہ اقدار کی منتقلی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ یونیورسٹی کی اقدار، وژن اور مشن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروفیسر مشاہد نے مزید کہا کہ “سابق طلبہ یونیورسٹی کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کے سفیر ہیں”، کیونکہ ان کی پیشہ ورانہ کامیابیاں، سماجی خدمات اور اخلاقی رویہ ان کے مادر علمی کی ساکھ اور وقار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایلومنائی پر زور دیا کہ وہ مانو سے جڑے رہیں اور جب بھی ممکن ہو اس کی تعلیمی اور ادارہ جاتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔ سی ٹی ای دربھنگہ کے پرنسپل، پروفیسر محمد فیض احمد نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اور پروفیسر محمد مشاہد کو اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ڈین کی باوقار ذمہ داری سنبھالنے پر پرتپاک استقبالیہ اور مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پروفیسر مشاہد کی تعلیمی قیادت مانو میں اساتذہ کی تربیت اور تدریسی سرگرمیوں کو مزید مستحکم کرے گی۔ تقریب کا اختتام سابق طلبہ کے اس عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا کہ وہ مانو کے ساتھ ایک مضبوط اور بامعنی رشتہ برقرار رکھیں گے اور یونیورسٹی کی تعلیمی برتری، ادارہ جاتی ترقی اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اجتماعی طور پر اپنا تعاون پیش کرتے رہیں گے۔ کالج کے دیگر اساتذہ اور عملہ نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔

