نو نکاتی مطالبات کو لے کر سی پی آئی ایم کا سنگھواڑہ بلاک ہیڈکوارٹر پر احتجاجی مظاہرہ

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سی پی آئی ایم نے سنگھواڑہ آنچل کمیٹی کی جانب سے جمعہ کو نو نکاتی مطالبات کے حق میں بلاک ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا سدھیر کانت مشرا کی صدارت میں منعقدہ مظاہرے میں مقررین نے بے گھر خاندانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کے نوٹس جاری کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے سی او کے خلاف جم کر نعرے بازی کی پیغمبر پور نوٹولیا میں گزشتہ 25 برسوں سے سڑک کے کنارے بے گھر خاندان آباد ہیں۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ ہائی کورٹ کا حوالہ دے کر انتظامیہ تمام غریب بے گھر خاندانوں کو اجاڑنا چاہتی ہے۔ ضلعی وزیر دلیپ بھگت نے کہا کہ متبادل انتظام کے تحت رہائش، مکانات اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بعد ہی سڑک کنارے سے لوگوں کو ہٹایا جائے۔ ایسا نہیں کیا گیا تو تحریک کو اور تیز کی جائیگی ضلعی سکریٹری اویناش ٹھاکر عرف منٹو نے کہا کہ نگر پنچایت سنگھواڑہ کے وارڈ نمبر 9 میں بودھن ندی کے کنارے پروٹیکشن وال اور کالکا گیٹ سے کبئی سرحد تک سڑک کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ ناقص معیار کی اینٹوں کا استعمال اور معمولی مقدار میں سیمنٹ دے کر، بغیر تعمیراتی بورڈ لگائے کروڑوں روپے کی اسکیم میں کھلے عام لوٹ مچائی جا رہی ہے۔ اس کی جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جاۓ کسان سبھا کے ضلعی صدر مہیش دوبے نے کہا کہ تمام محروم خاندانوں کے نام راشن کی فہرست میں شامل کرکے انہیں فائدہ دیا جائے۔ سماجی تحفظ پنشن کے لیے کیمپ لگا کر مستحقین کے نام شامل کیے جائیں اور گزشتہ بقایا رقم کی ادائیگی کی جائے۔آنچل منتری انیل مہاراج نے کہا کہ نگر پنچایت سنگھواڑہ میں رات کی تاریکی میں بڈکو کی جانب سے نالے کی تعمیر کا کام کرایا جا رہا ہے۔ لوگوں کی شکایت کے باوجود جے ای نے کوئی کارروائی نہیں کی اور ٹھیکیدار سے ملی بھگت کرکے چوری چھپے نالے کی تعمیر کرائی گئی۔ وارڈ نمبر 9 ایکمّا میں ندی کے کنارے پروٹیکشن وال کی تعمیر میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگی کا الزام لگایا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ تمام پنچایتوں میں کیمپ لگا کر بے گھر خاندانوں کو پردھان منتری یا مکھیا منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات فراہم کیے جائیں۔ زمین کے ریکارڈ کی تصحیح (پریمارجن) اور داخل خارج کے کام کو مکمل کیا جائے۔ سنگھواڑہ آنچل کو خشک سالی سے متاثرہ علاقہ قرار دیا جائے۔ منریگا کے تحت مزدوروں کو سال میں 200 دن کام، 700 روپے یومیہ مزدوری اور بقایا اجرت کی ادائیگی کی جائے سنگھواڑہ صحت مرکز میں ایکسرے کی سہولت دوبارہ شروع کی جائے اور ضروری ادویات کا انتظام کیا جائے۔ آنگن واڑی اور اسکولوں میں فراہم کیے جانے والے غذائی سامان میں مبینہ لوٹ کھسوٹ پر روک لگائی جائے دھرنے سے قبل پیغبر پور اور بھوانی پور سے بلاک ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالا گیا۔ مظاہرے سے گوپال ٹھاکر، شیلندر پانڈے، بچن مشرا، سنیل چوپال، شیلندر ساہ، رام برکش چوپال، سدھیر پاسوان، متھیلیش پاسوان، دنیش جھا سمیت دیگر نے خطاب کیا آخر میں سی او انکور رائے کے ساتھ مثبت بات چیت کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا