تاثیر 03 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاست کا ذکر آتے ہی ذہن میں ذات پات کے تانے بانے، مذہبی صف بندی، چناوی جوڑ توڑ اور خاندانی سیاست کے نقش ابھر آتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہی عناصر انتخابی نتائج کی سمت متعین کرتے رہے ہیں، جبکہ تعلیم، روزگار، صحت، صنعت اور بہتر طرزِ حکمرانی جیسے بنیادی مسائل اکثر سیاسی نعروں اور چناوی جملوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر بانکی پور اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں جن سوراج پارٹی کے بانی اور امیدوار پرشانت کشور نے بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے تو اس نتیجے کو محض ایک انتخابی فتح سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس جیت کے اندرضرور ایک گہرا سیاسی اور سماجی پیغام پوشیدہ ہے۔
پرشانت کشور نے اپنی عوامی رابطہ مہم کے دوران ایک ایسا بیانیہ اختیارکرتے رہے ہیں، جو بہار کی روایتی سیاست سے خاصا مختلف تھا۔2025 کے عام اسمبلی انتحابات کے دوران اپنے تشہیری جلسوں میں بھی وہ بارہا عوام سے یہی کہتے رہے کہ ’’اب تک آپ سیاست کے بڑے بڑے شہ سواروں کے بال بچوں کے لئے ووٹ دیتے رہے ہیں، مگر اس بار آپ اپنے بچوں کے لئے ووٹ دیجیے؛ ان کی تعلیم کےلئے ووٹ دیجیے، اس لئے ووٹ دیجیے نہ کہ انہیں روزگار کی تلاش میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور دوسری ریاستوں میں جا کر محنت مزدوری نہ کرنی پڑے، بلکہ اپنے ہی گھر کے آس پاس انہیں باعزت روزگار میسر ہو۔‘‘گرچہ یہ چند سادہ جملے تھے، مگر ان میں برسوں سے ہجرت، بے روزگاری اور محرومی کا درد سمویا ہوا تھا، مگر پچھلے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو امید کے خلاف ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی تھی۔ اس بار بانکی پور اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب میں ان کا بیانیہ تھوڑا سا بدل گیا تھا۔ اس بار وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے تھے کہ ’’اس ایک سیٹ کو ہمارے جیتنے سے حکومت بہار کی صحت پر کچھ بھی اثر نہیں پڑے گا۔ہاں یہ ضرور ہوگا کہ جو پارٹی اب تک یہ کہتی رہی ہے کہ اگر کتّے بلّی کو بھی ہم چناوی میدان میں اتار دیں تب بھی لوگ ہمیں ہی ووٹ دیں گے، ان کا گھمنڈ ٹوٹے گا اور ایک مثبت پیغام جائے گا ۔ اس کے علاوہ ہم بہار اسمبلی میں آپ کی نمائندگی ایمانداری کے ساتھ کریں گے اور میری سطح سے کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوگا، جو آپ کے لئے شرمندگی کا سبب بنے۔‘‘ غالب گمان یہی ہے کہ بانکی پور کے ووٹروں کے دلوں میں یہی بات گھر کر گئی اور انہوں نے اس بار اپنی سیاسی ترجیحات بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔بانکی پور کے لوگوں کا ہی کہنا ہے کہ انھوں نے ذات پات کی تفریق اور مذہبی منافرت کی روایت کو درکنار کرکےایک مثبت ویژن کی حمایت کی ہے۔
اگر واقعی یہ کامیابی ذات پات کی تفریق اور مذہبی منافرت کے بجائے ترقی، تعلیم اور روزگار کے ایجنڈے پر عوامی اعتماد کی علامت ہے تو اسے بہار کی سیاست میں ایک خوش آئند موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس انتخاب نے بالواسطہ ہی سہی کم از کم یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ عوام اب ان سوالات کے جواب بھی چاہتے ہیں، جو ان کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، ریاست میں صنعتیں کب آئیں گی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا اور کب بہار کا نوجوان اپنے خواب پورے کرنے کے لئے گھر بار چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ضمنی انتخاب پورے صوبے کی سیاست کا مکمل پیمانہ نہیں بن سکتا۔ تاہم بعض اوقات تاریخ کے بڑے تغیرات کی ابتدا بھی بظاہر ایسے ہی چھوٹے واقعات سے ہوتی ہے۔ بانکی پور کا فیصلہ شاید اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہو، بشرطیکہ اس کے بعد سیاست کا محور واقعی عوامی مسائل بن جائیں اور انتخابی مباحث نفرت اور تقسیم کے بجائے ترقی اور کارکردگی کے گرد گھومنے لگیں۔البتہ اس کامیابی کے بعد اصل امتحان جن سوراج پارٹی اور اس کے بانی پرشانت کشور کا ہے۔ بانکی پورنے انہیں ایک بہترین موقع دیا ہے۔ انتخابی جلسوں میں کیے گئے وعدے، بلند آہنگ دعوے اور امید افزا نعرے اسی وقت تاریخ کا حصہ بنتے ہیں جب وہ عملی منصوبوں اور قابلِ پیمائش نتائج میں ڈھلیں۔پرشانت کشور کی جیت کا مطلب شاید یہی ہے کہ عوام اب نئے نئے چناوی جملے نہیں بلکہ مثبت طرزِ حکمرانی، جو سب کو ساتھ لیکر چلے، دیکھنا چاہتے ہیں ۔
بہر حال بانکی پور کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے گویا یہ اشارہ دیا ہے کہ اگر سیاست مستقبل کی بات کرے، نوجوانوں کے خوابوں کی بات کرے اور ترقی کو اپنی منزل بنائے تو عوام بوسیدہ سیاسی خانوں سے باہر نکل کر بھی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب باری پرشانت کشور کی ہے۔ وقت یہ طے کرے گا کہ وہ اپنی سیاسی بصیرت، انتظامی فہم اور سماجی سروکار کو کس حد تک زمین پر اتارنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر وہ عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہیں تو بانکی پور کی یہ فتح صرف ایک ضمنی انتخاب کی کامیابی نہیں رہے گی، بلکہ ممکن ہے اسے بہار میں مثبت، تعمیری اور عوام حامی سیاست کے ایک نئے باب کی تمہید کے طور پر یاد رکھا جائے۔

