سی جی ایل-ٹی ڈی پی ایل امتحان منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف ملازمین کا احتجاج

تاثیر 18 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

رانچی، 18 اگست: جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی ،سی جی ایل اور ٹی ڈی پی ایل کے تحت منعقد مختلف مسابقتی امتحانات کو منسوخ کرنے اور سی آئی ڈی تحقیقات کرانے کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے اعلان کے بعد ان امتحانات کے ذریعے مقرر کیے گئے ملازمین کا احتجاج تیز ہوگیا ہے۔ ملازمین نے پیر کی دیر رات تک پروجیکٹ بھون احاطے میں دھرنا اور مظاہرہ کیا۔ منگل کی صبح بھی بڑی تعداد میں ملازمین پروجیکٹ بھون پہنچے اور کئی گھنٹے دھرنا دے کر حکومت سے اپنی ملازمتیں محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرہ کرنے والے ملازمین نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کی تقرری میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے یا اس کی جانب سے کوئی غلطی سامنے آتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کسی ذاتی قصور کے بغیر تقریباً دو ہزار مقررہ سی جی ایل ملازمین کی ملازمتوں پر سوال اٹھانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
ملازمین نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ ملازمت کر رہے تقریباً دو ہزار سی جی ایل ملازمین کا جرم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھرتی کے عمل میں اگر کہیں گڑبڑی ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد ملازمت کر رہے ملازمین کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
مظاہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے پہلے کرائی گئی سی آئی ڈی تحقیقات میں سوالیہ پرچے کے افشا ہونے کی بات سامنے نہیں آئی تھی۔ ایسے میں اگر اب بڑے پیمانے پر بے ضابطگی یا کسی فرد کی شمولیت کی بات سامنے آتی ہے تو اس کی ذمہ داری مقررہ ملازمین پر ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔